الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری نوٹسوں کا اندرون ایک ہفتہ جواب دیا جائے : ٹی آرایس نام کے معاملہ میں دہلی ہائی کورٹ کی ہدایت

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری نوٹسوں کا اندرون ایک ہفتہ جواب دیا جائے
بعد ازاں شخصی حاضری کا موقع فراہم کیا جائے۔ ٹی آرایس نام کے معاملہ میں دہلی ہائی کورٹ کی ہدایت
تلنگانہ رکشنا سینا پارٹی کے رجسٹریشن سے متعلق معاملہ میں دہلی ہائی کورٹ نے اہم ہدایت جاری کی اور کہا کہ پارٹی کو الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی) کی جانب سے جاری نوٹسوں کا اندرون ایک ہفتہ جواب دینا ہوگا، جس کے بعد انہیں شخصی طور پر پیش ہو کر اپنے دلائل پیش کرنے کا موقع فراہم کیا جائے۔پارٹی کی جانب سے عدالت میں وکیل نے موقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن کی ہدایات کے مطابق پارٹی کے نام پر اعتراضات طلب کرنے کے لئے اخبارات میں اشتہارات شائع کئے گئے تھے۔ موصولہ اعتراضات میں سے صرف دو جماعتوں کی جانب سے دائر اعتراضات ہی پارٹی کو ارسال کئے گئےجن کا جواب بھی دیا جا چکا ہے۔وکیل نے مزید بتایا کہ بڑی تعداد میں اعتراضات موصول ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے الیکشن کمیشن نے پارٹی کو متبادل کے طور پر مزید تین نام تجویز کرنے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے عدالت سے گزارش کی کہ پارٹی کو یہ حق حاصل ہے کہ اسے موصول ہونے والے تمام اعتراضات کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔سماعت کے دوران معزز جج نے ہدایت دی کہ پہلے مرحلے میں پارٹی الیکشن کمیشن کے نوٹسوں کا جواب دے۔ اس پر پارٹی کے وکیل نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ ایک ہفتہ کے اندر جواب داخل کر دیا جائے گااور ساتھ ہی درخواست کی کہ کسی بھی حتمی فیصلہ سے قبل پارٹی کو شخصی سماعت کا موقع دیا جائے۔عدالت نے فریقین کے دلائل پر غور کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ الیکشن کمیشن پارٹی کا جواب موصول ہونے کے بعد انہیں سماعت کا موقع فراہم کرے تاکہ وہ اپنے موقف کی وضاحت کر سکے۔دہلی ہائی کورٹ کے احکامات پر تلنگانہ رکشنا سینا کے ذرائع نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے "تلنگانہ پرجا جاگروتی” کے نام سے پارٹی رجسٹریشن کے لئے درخواست دی تھی تاہم الیکشن کمیشن نے ان کی درخواست میں شامل تیسرے نام "تلنگانہ رکشنا سینا” کو منظور کرتے ہوئے اعتراضات طلب کئے۔پارٹی ذرائع کے مطابق ہزار سے زائد اعتراضات موصول ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، مگر ان کی تفصیلات پارٹی کو فراہم نہیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی اجازت سے ہی ریاست تلنگانہ کے تمام 119 اسمبلی حلقوں میں پارٹی کے جھنڈے اور دفاتر قائم کئے گئے اور سرگرمیاں جاری ہیں۔ذرائع نے مزید بتایا کہ ایک ہفتہ کے اندر نوٹسوں کا جواب دیا جائے گا، جس کے بعد پارٹی کی سربراہ کلواکنٹلہ کویتا شخصی طور پر الیکشن کمیشن کے روبرو پیش ہو کر پارٹی نام سے متعلق وضاحت پیش کریں گی۔انہوں نے نشاندہی کی کہ ماضی میں بھی دو سیاسی جماعتوں کو "ٹی آر ایس” کے مخفف کے ساتھ رجسٹریشن دیاجا چکا ہے، جن میں ایک 2023 اور دوسری 2024 میں رجسٹر ہوئی۔ ایسے میں اب اعتراضات اٹھائے جانے پر سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔ پارٹی نے واضح کیا کہ تمام رکاوٹوں کے باوجود آخرکار انصاف کی ہی جیت ہوگی۔



