ایس آئی آر میں ایک بھی اہل ووٹر کا نام حذف نہ ہونے پائے : محمد اظہرالدین

ایس آئی آر میں ایک بھی اہل ووٹر کا نام حذف نہ ہونے پائے
ملت کی تمام تنظیموں اور اداروں کو متحرک ہونے کی ضرورت
امیر حلقہ جماعت اسلامی ہند ، تلنگانہ جناب محمد اظہرالدین کا صحافتی بیان
ایس آئی آرکے ذریعہ اہل ووٹرس خاص کر مسلم ووٹر س کے ناموں کو حذف کرنے کے اندیشوں کے بیچ امیر حلقہ جماعت اسلامی حلقہ تلنگانہ جناب محمد اظہر الدین نے اپنے صحافتی بیان میں کہا کہ ملت کی تمام تنظیموں، جماعتوں، اداروں اور انجمنوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ SIR میں کوئی ایک اہل ووٹر کا نام بھی حذف نہ ہونے پائے
۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی طور پر ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات پر نگاہ رکھے کہ اس کا نام ووٹرلسٹ سے خارج نہ ہونے پائے۔دوسری طرف ملت کے درد مند اصحاب اور دینی، ملی، سیاسی، فلاحی و سماجی اداروں اور جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ SIR کے عمل کی بھر پور نگرانی کریں، BLO کی کارکردگی پر نگاہ رکھیں، آبادیوں میں شعور بیداری کا کام کریں تاکہ معمولی وجوہات کا بہانہ بناکر مسلم ووٹرس کے ناموں کو حذف کرنے کی کوئی آفیسر بھی جرات نہ کرسکے
۔جناب محمد اظہر الدین نے کہا کہ ریاست بھر میں کئی مقامات پر جماعت اور اس کی ذیلی تنظیموں کی جانب سے عوام کی رہنمائی اور تعاون کے لئے SIR گائیڈنس سنٹر قائم کئے گئے ہیں۔ تاہم اس طرح کے گائیڈنس سنٹرس کے مختلف مقامات پر قیام کی ابھی بھی سخت ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے غفلت مستقبل میں انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ امیر حلقہ تلنگانہ نے تمام اضلاع اور منڈل کی سطح پر مزید گائیڈنس سنٹر کے قیام کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ملی اداروں کے آپسی تال میل سے ہی ایس آئی آرکا عمل مکمل ہوسکتا ہے
ورنہ ملت کا ایک کثیر طبقہ حق رائے دہی سے محروم ہو جائے گا۔ انہوں نے اس بات پر افسوس اور تاسف کا اظہار کیا کہ حکومت کی جانب سے مقررہ کردہ BLO’s محض رسمی انداز میں کام کر رہے ہیں۔ امیر حلقہ نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ایس آئی آرکی مدت میں اضافہ کرے اور ریاستی حکومت BLO’s کو مناسب تربیت دیکر عوام کے بیچ روانہ کرے تاکہ وہ دیانت داری سے SIR کے کام انجام دے سکیں۔
انہوں نے انتباہ دیا کہ اگر ملت کے افراد SIR سے غفلت برتیں گے تو ممکن ہے کہ آئندہ SIR شہریت کا ثبوت قرار دیا جائے اور ان کی شہریت مشکوک ہو جائے۔ لہذا ہر فرد کو SIR میں شمولیت کو یقینی بنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔



