حیدرآباد میں نوجوان پر اشرار کا حملہ ۔ پولیس نے فرقہ وارانہ پہلو کو کیا مسترد

حیدرآباد: 24 سالہ محمد محبوب کو چہارشنبہ کی شام پہاڑی شریف پولیس اسٹیشن کے حدود میں جل پلی روڈ پر مبینہ طور پر چند افراد نے حملہ کرکے زخمی کردیا۔ ان کے سر پر شدید چوٹ آئیں۔
متاثرہ نوجوان محمد محبوب کا کہنا ہے کہ انہیں مسلمان ہونے کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا تاہم پولیس نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ ذاتی جھگڑے کا نتیجہ تھا۔
محمد محبوب کے مطابق وہ اپنے دوست محمد خالد کے ساتھ شام تقریباً ساڑھے چار بجے جل پلی سے گھر واپس جا رہے تھے کہ اجے نامی ایک شخص نے انہیں روک لیا۔سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو بیان میں محبوب نے بتایا کہ اجے نے خالد کے فون پر بات کرنے کے دوران انہیں شور نہ کرنے کو کہا
پھر ان کے خلاف "تورکولو” لفظ کا استعمال کیا اور ہیلمٹ سے ان پر حملہ کر دیا۔ محبوب کے مطابق "ہم نے اسے بتایا کہ ہم اس کے بارے میں بات بھی نہیں کر رہے تھے لیکن اس نے ہماری بات نہیں سنی۔”محبوب کا کہنا ہے کہ خالد وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے لیکن اجے اور مزید چار افراد نے مل کر ان پر حملہ کیا۔
پہاڑی شریف پولیس نے نفرت انگیز حملے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ محمد محبوب اور اجے کے درمیان پہلے جھگڑا ہوا تھا جس کے دوران اجے نے ہیلمٹ سے محبوب کو مارا۔ بعد ازاں چرن، لکی گوڑ اور ایک اور شخص بھی مبینہ طور پر حملے میں شامل ہو گئے۔ پولیس کے مطابق "اس واقعے کا کوئی فرقہ وارانہ پہلو نہیں ہے۔
محبوب اور اجے کے درمیان جھگڑا ہوا تھا بعد میں تین دیگر افراد بھی حملے میں شامل ہوئے۔ محبوب اس وقت نشے میں تھے اور ان کے الزامات درست نہیں ہیں۔”محمد محبوب کو پہلے عثمانیہ جنرل اسپتال لے جایا گیا
جہاں ان کے سر پر چھ ٹانکے لگائے گئے۔ بعد ازاں حالت خراب ہونے پر انہیں مزید علاج کے لیے ملاپور کے ریکوری اسپتال میں داخل کیا گیا۔



