انٹر نیشنل

مغربی ایشیا میں کشیدگی، صدر ٹرمپ ایک بار پھر سچویشن روم پہنچ گئے

نئی دہلی: مغربی ایشیا میں کشیدگی مسلسل شدت اختیار کر رہی ہے۔ آبنائے ہرمز کی صورتِ حال اور ایران کے ساتھ تازہ تناؤ کے پیشِ نظر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کیا۔

 

اس اجلاس میں نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

 

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہوا جب اطلاعات ہیں کہ صدر ٹرمپ آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کو بلا رکاوٹ برقرار رکھنے اور ایران پر اپنے جوہری مطالبات تسلیم کرانے کے لیے مزید فوجی کارروائیوں پر غور کر رہے ہیں۔

 

رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ گزشتہ سال جون میں ایران کے خلاف کارروائیوں کے دوران بھی امریکی صدر نے اسی سچویشن روم سے حالات کی نگرانی کی تھی اور ماضی کے کئی اہم فوجی آپریشنز کی نگرانی بھی یہیں سے کی جاتی رہی ہے۔

 

وائٹ ہاؤس کے ویسٹ وِنگ کے تہہ خانے میں واقع سچویشن روم تقریباً 5,525 مربع فٹ رقبے پر مشتمل ہے۔ اس میں ایک کانفرنس روم اور انٹیلی جنس مینجمنٹ سینٹر موجود ہے، جہاں امریکی صدر اور ان کے مشیر ملک کے اندر اور بیرونِ ملک پیدا ہونے والے ہنگامی حالات کا جائزہ لیتے ہیں۔

 

رپورٹ کے مطابق حالیہ حملوں میں امریکہ نے ایک بار پھر چابہار کو نشانہ بنایا۔ شہر میں واقع بحریہ کے واچ ٹاور پر میزائل حملہ کیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ اس سے قبل بھی اس ٹاور پر حملہ کیا جا چکا تھا۔

 

اس واچ ٹاور کو سمندری سلامتی کی نگرانی اور ماہی گیروں کی امدادی کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

 

متعلقہ خبریں

Back to top button