عامر خان کی شادی کا تنازعہ۔جان سے مارنے کی دھمکی اور توبہ کا فتویٰ

ممبئی: بالی ووڈ اداکار عامر خان اور گوری کی بین مذاہب شادی شدید تنازع کا باعث بن گئی ہے۔ 5 جولائی کو دونوں کی شادی اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ طریقے سے ہوئی
تاہم اب دونوں مذہبی حلقوں کی جانب سے اس پر سخت مخالفت سامنے آ رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق ایودھیا کے جگدگرو پرمہنس آچاریہ نے اعلان کیا کہ جو شخص عامر خان کو قتل کرے گا اسے 5 کروڑ روپے انعام دیا جائے گا۔
بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے مہاراشٹر کے وزیر نتیش رانے کے بیانات کی حمایت میں یہ دھمکی دی۔ اسی دوران بجرنگ دل کے کارکنوں نے بھی عامر خان کا پتلا نذرِ آتش کرتے ہوئے ان کے خلاف احتجاج کیا۔
چند روز بعد مسلم پرسنل دارالافتاء شاہی کے چیف مفتی مولانا ابراہیم حسین نے بھی اس شادی کے خلاف فتویٰ جاری کیا۔ ان کے مطابق شریعت کے تحت کسی مسلمان مرد کا غیر مسلم خاتون سے شادی کرنا گناہ ہے
اور عامر خان کو اس پر توبہ کرنی چاہیے۔دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ دونوں نے باہمی رضامندی سے اور قانونی طور پر شادی کی ہےلیکن دونوں مذہبی حلقے اس حقیقت کو نظر انداز کر رہے ہیں۔
اس تنازع پر عامر خان اور ان کی اہلیہ نے اب تک کوئی عوامی ردِعمل ظاہر نہیں کیا۔




