گستاخ مصنفہ تسلیمہ نسرین آئے گی کولکتہ۔ اقتدار کی تبدیلی کے بعد ہواوں کا بدلتا رخ

نئی دہلی: ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مغربی بنگال میں حکومت کی تبدیلی کے بعد اب وہاں کئی چیزیں بدلتی جا رہی ہیں۔ کئی پرانے انتظامات ختم کیے جا رہے ہیں تو کئی نئی چیزیں بھی دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ بنگلہ دیش کی متنازعہ مصنفہ تسلیمہ نسرین بھی طویل عرصے بعد کولکتہ آنے والی ہیں۔ اپنی تحریروں کی مخالفت ک
ے باعث انہیں تقریباً 2 دہائیاں قبل کولکتہ چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بنگلہ دیش میں پیدا ہونے والی تسلیمہ نسرین آئندہ ماہ یکم اگست کو کولکتہ میں ایک پروگرام میں شرکت کے لیے آ رہی ہیں۔
سیکورٹی وجوہات کی بنا پر انہیں لیفٹ فرنٹ حکومت کے دور میں مغربی بنگال چھوڑنا پڑا تھا۔ اس کے بعد سے اب تک وہ اس شہر واپس نہیں آ سکی تھیں۔تسلیمہ نسرین کی طویل مدت کے بعد کولکتہ واپسی پر مغربی بنگال کی وزیر اگنی مترا پال نے کہا کہ ’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس، سب کا پریاس اور سب کی جوابدہی۔
جوابدہی طے کی جا رہی ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’لیفٹ حکومت تسلیمہ نسرین جیسی باصلاحیت مصنفہ کو سیکورٹی فراہم نہیں کر سکی تھی۔ لیفٹ نے مسلمانوں کے نام پر سیاست تو کی لیکن انہیں سیکورٹی فراہم نہیں کر سکی بلکہ میں تو یہ کہوں گی کہ انہیں سیکورٹی دی ہی نہیں گئی۔
ممتا بنرجی کے دور کی تو بات ہی چھوڑ دیجیے۔ اب سنا ہے کہ تسلیمہ آ رہی ہیں۔ میں ان کی کتابوں کی بہت بڑی مداح ہوں۔‘‘ کولکتہ چھوڑنے کے تقریباً 2 دہائیوں بعد تسلیمہ نسرین یکم اگست کو شہر میں ایک ادبی پروگرام میں شرکت کے لیے آ رہی ہیں۔
شہر کے رویندر سدن ثقافتی مرکز میں ہونے والے اس پروگرام کا انعقاد 3 تنظیمیں ’سیکولر مشن‘، ’پشچم بونگیر جونّو‘ (مغربی بنگال کے لیے) اور ’ہیومن رائٹس بیونڈ فرنٹیئرز‘ کر رہی ہیں۔منتظمین کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ سوویندو ادھیکاری اور مصنف شری شیندو مکھوپادھیائے کے بھی پروگرام میں شرکت کی توقع ہے۔
2007 کے بعد کولکتہ میں نسرین کا یہ پہلا عوامی پروگرام ہوگا۔ اُس وقت ان کی کتاب ’دوی کھنڈیتو‘ کی مخالفت کے باعث انہیں شہر چھوڑنا پڑا تھا جسے انہوں نے بنگلہ دیش سے جلاوطنی کے بعد اپنا گھر بنایا تھا۔
معلوم ہوا ہے کہ کولکتہ میں اپنے دور جلاوطنی کا ذکر کریں گی اور ان حالات پر بھی بات کریں گی جن کی وجہ سے انہیں کولکتہ چھوڑنا پڑا تھا اور وہ اپنی نظمیں بھی سنائیں گی۔‘‘



