حیدرآباد: ہندو طالب علم کو سورۃ الفاتحہ کا ہوم ورک دینے پر تنازعہ۔ اسکول کے پاس بی جے پی کا احتجاج۔انتظامیہ نے ٹیچر کو برطرف کر دیا

حیدرآباد: حیدرآباد کے پرانے شہر کے علاقے سعیدآباد میں واقع ایک خانگی اسکول نے دوسری جماعت کے ایک ہندو طالب علم کو اسلامی دینی اسباق ہوم ورک میں دینے کے تنازع کے بعد متعلقہ ٹیچر کو ملازمت سے برطرف کر دیا۔
طالب علم جو سکسیس دی اسکول میں زیرِ تعلیم ہے اس کو کلمہ اور سورۃ الفاتحہ پڑھنے کا ہوم ورک دیا گیا تھا۔ طالب علم کے ماں باپ کے مطابق 15 جولائی کو اسکول ڈائری میں "دینیات” کے مضمون کے تحت سورۃ الفاتحہ پڑھیں درج کیا گیا تھا۔
اس سے قبل 11 جولائی کو بھی ٹیچر نے کلمہ پڑھیں لکھا تھا لیکن بعد میں اسے کاٹ دیا گیا غالباً اس بات کا احساس ہونے پر کہ یہ مضمون غیر مسلم طالب علم پر لاگو نہیں ہوتا۔اسکول انتظامیہ نے وضاحت کی کہ ان کے بیشتر طلبہ مسلمان ہیں اس لیے انہیں دینیات بطور مضمون پڑھائی جاتی ہے
تاہم یہ مضمون غیر مسلم طلبہ کے لیے نہیں ہے۔ انتظامیہ نے اس واقعے کو ایک غیر ارادی غلطی قرار دیا لیکن اس کے باوجود متعلقہ ٹیچر شیخ عائشہ پروین کو ملازمت سے برطرف کر دیا اور آئندہ سکسیس گروپ آف ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنس کے کسی بھی ادارے میں ملازمت کے لیے نااہل قرار دے دیا۔
طالب علم کی خالہ سپریتا گوڑ کے مطابق ابتدا میں اسکول کی پرنسپل نے خاندان کو بتایا کہ یہ مشق تمام طلبہ کے لیے لازمی ہے تاہم بعد میں ایک دوسرے عملے کے رکن نے کہا کہ ڈائری میں یہ اندراج غلطی سے ہو گیا تھا۔
خاندان نے اسکول انتظامیہ کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں کو صرف تعلیم پر توجہ دینی چاہیے اور تمام طلبہ کے مذہبی عقائد کا احترام کرنا چاہیے۔اس دوران اسکول کے باہر احتجاج کرنے والے بی جے پی لیڈر انڈیلا سری رامولو یادو اور دیگر کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔
یادو نے اسکول کے رویے پر سوال اٹھاتے ہوئے ادارے کو بند کرنے اور پرنسپل کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔اسی دوران بی جے پی لیڈر اور وکیل کرونا ساگر کو بھی اسکول پہنچنے پر پولیس نے حراست میں لے لیا۔
انہوں نے کہا کہ وہ پولیس سے یہ پوچھنے آئے تھے کہ اس معاملے میں ابھی تک ایف آئی آر کیوں درج نہیں کی گئی۔ انہوں نے پرنسپل کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ طلبہ کو قرآن پڑھنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔




