مفتی ڈاکٹر میراں سید شاہ نجم الدین قادری الجیلانی ثاقب پاشاہ امریکہ کا حیدرآباد میں خطاب

*اہلِ بیتِ اطہار ، صحابہء کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اولیائے کرام رحمہم اللہ کی محبت و تعظیم ایمان کا لازمی تقاضا ہے*
مفتی ڈاکٹر میراں سید شاہ نجم الدین قادری الجیلانی ثاقب پاشاہ امریکہ کا حیدرآباد میں خطاب
حیدرآباد- 16 / جولائی ( مولانا محسن پاشاہ کی رپورٹ ) شہزادۂ جگرگوشۂ پیرانِ پیر حضرت غوثِ اعظم دستگیر رضی اللہ عنہ حضرت علامہ الحاج مفتی ڈاکٹر میراں سید شاہ نجم الدین قادری الجیلانی ثاقب پاشاہ صاحب سجادہ نشینِ بدرِ ملتؒ شہزادہ جگر حضور پیران پیرؓ حضرت علامہ الحاج سید شاہ بدرالدین قادری الجیلانیؒ ( حال مقیم امریکہ ) نے کل رآت مسجد درگاہ شریف والا جاہ عقب رائیل سی ہوٹل صابر نگر جھرہ آصف نگر حیدرآباد میں حضرت سید شاہ ولی اللہ محمد قادری الجیلانیؒ کے 291 اور جانشین جلالۃ العلمؒ بدرملت حضرت علامہ الحاج سید شاہ بدرالدین قادری الجیلانیؒ سابق صدر کل ہند سنی علماء بورڈ و جمعیۃ المشائخ الہند کے 11 ویں سالانہ اعراس شریف کے موقعہ پر خدمت صندل مالی انجام دینے کے بعد ایک عظیم الشان جلسہء پیغام حق سے اپنے جامع اور فکر انگیز خطاب میں فرمایا کہ جگرگوشۂ حضرت علامہ الحاج سید شاہ بدرالدین قادری الجیلانی المعروف بدرِ ملت رحمۃ اللہ علیہ کی علمی ، دینی ، اصلاحی ، روحانی اور تصوف کے میدان میں انجام دی گئی خدمات آفتابِ نیم روز کی طرح روشن ہیں ، جن سے آج بھی اہلِ علم و معرفت بھرپور استفادہ کر رہے ہیں اور ان شآء اللہ عزوجل تادیر شمس وقمر یہ سلسلہء فیضان علمی و روحانی جاری رہے گا ۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسی با برکت محفل ہے جس میں انبیائے کرام علیہم السلام ، اہلِ بیتِ اطہار رضوان اللہ علیہم اجمعین ، صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اولیاء اللہ کے تذکروں کی خوشبوئیں چہار جانب بکھری ہوئی ہیں ۔ ایسے اجتماعات امتِ مسلمہ میں اتحاد ، محبت اور عقیدۂ صحیحہ کے فروغ کا ذریعہ بنتے ہیں۔
اپنے خطاب میں انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں بعض حلقے صرف اہلِ بیتِ اطہار رضوان اللہ علیہم اجمعین سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں ? مگر صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں بغض و عناد کا اظہار کرتے ہیں اور بعض لوگ صحابہء کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے عقیدت و محبت کا دم بھرتے ہیں مگر اہل بیت اطہار رضوان اللہ علیہم اجمعین سے سچی پیروی و اتباع اور محبت نہیں کرتے یہ دو صورتیِں اسلامی تعلیمات اور اہلِ سنت والجماعت کے عقائد کے سراسر منافی ہے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ تمام صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین حق پر تھے اور انہی مقدس ہستیوں نے اہلِ بیتِ اطہار کی محبت ، ادب اور عظمت کو پوری امت تک بڑی ذمہ داری کے ساتھ امت محمدیہؐ تک پہنچایا ۔
انہوں نے حدیثِ مبارکہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رسولِ اکرم صل اللہ علیہ وعلیٰ آلہ وصحبہ وسلم نے فرمایا: "میرے صحابہ کو برا بھلا نہ کہو۔” ایک اور مقام پر فرمانِ مصطفیٰؐ ہیکہ میرے تمام کے تمام صحابہء کرام چمکتے ہوئے ستاروں کے مانند ہے اگر تم کسی ایک کی بھی اتباع و پیروی کروگے تو نجات دہندہ بن جاؤگے اسی طرح اہلِ بیتِ اطہار کا ذکر و احترام بھی ایمان کا حصہ ہے اگر درود شریف اور نماز میں اہل بیت اطہار رضوان اللہ علیہم اجمعین پر درود نہ بھیجا جائے تو نہ درود شریف مکمل ہوگا اور نا ہی نماز قبول ہوگی ۔ لہٰذا ایک سچے مسلمان کے لئے صحابۂ کرام اور اہلِ بیتِ اطہار رضوان اللہ علیہم اجمعین دونوں سے محبت اور عقیدت رکھنا ضروری ہے۔
مفتی ڈاکٹر ثاقب پاشاہ نے کہا کہ آج بعض نوجوان صرف "صحابہ ، صحابہ” اور بعض صرف "علیؓ ، علیؓ” کے نعروں میں امت کو نامناسب تقسیم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ، حالانکہ اہلِ سنت وجماعت کا عقیدہ اعتدال اور محبت پر قائم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کی عظمت مسلم ہے ، لیکن اس عظمت کو حضرات شیخین کریمین ، امیرالمؤمنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شان کے مقابلے میں پیش کرنا درست طرزِ عمل نہیں ہے اس کے باوجود ہم حضرت سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم ورضی اللہ عنہ کو زیادہ مانتے ہیں نا ہی ہم بلکہ ہرمسلمان مانتے ہیں اس میں کبھی کوئ اعتراض نہیں کیئے اور نہ ہی کرسکتے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ رسولِ اکرم صل اللہ علیہ وعلیٰ آلہ وصحبہ وسلم نے حضرت سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم و رضی اللہ عنہ کے بے شمار فضائل بیان فرمائے ہیں علیؓ کو دیکھنا عبادت ، علیؓ سے مومن ہی محبت کرے گا منافقین کو علیؓ سے محبت کی توفیق نہ ہوگی چنانچہ حضور اکرم صل اللہ علیہ وعلی آلہ وصحبہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ آپؓ اسلام قبول کرنے والوں میں اولین شخصیات میں سے ہیں ، اور یہ ان کی عظیم فضیلت ہے ۔ ان فضائل کو کسی دوسرے صحابی کی تنقیص یا مخالفت کے لئے استعمال کرنا ہرگز اہلِ سنت کا طریقہ نہیں ہے ۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ آج کے معاشرے میں اہلِ بیتِ اطہار کی محبت کے ساتھ ساتھ صحابۂ کرام کے ادب و احترام کو بھی عام کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ امت کا اتحاد اسی وقت ممکن ہے جب تمام مقدس شخصیات کا احترام یکساں طور پر کیا جائے ۔
انہوں نے بعض گمراہ کن نظریات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ مسجد میں اللہ جل مجدہ کے سواء کسی غیر کا نام نہیں لیا جانا چاہیئے ، انہوں نے ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ اذان میں تکبیرات اور اشھد ان لا الہ الااللہ کے بعد اگر یہ کہکر روکنے کی جراءت وہمت کرے کہ اذان اب بس کردی جائے تو یہاں علماء کرام یا مفتیان عظام کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ ایک چھوٹا سا بچہ بھی کہہ اٹھے گا کہ "اشہد أن محمدًا رسول اللہ” کے بغیر اذان مکمل نہیں ہوتی ، اسی طرح نماز میں درودِ ابراہیمیؑ میں اہلِ بیتِ اطہار کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہوتا ۔ اس سے صاف واضح ہوتا ہے کہ اسلام میں رسول اللہ صل اللہ علیہ وعلی آلہ وصحبہ و سلم اور اہلِ بیتِ اطہار رضوان اللہ علیہم اجمعین کی محبت و تعظیم ایمان اور عبادت کا لازمی جُز ہے۔
انہوں نے کہا کہ قرآنِ مجید اور احادیثِ مبارکہ میں اہلِ حق کے تمام عقائد حقہ کی واضح رہنمائی موجود ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے مقرب بندوں ، انبیائے کرام علیہم السلام کو بے شمار فضائل و معجزات اور اولیاء اللہ کو ان گنت کرامات و بزرگیوں سے نوازا ہے تو بتایئے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے سیدا شبابِ اہلِ الجنۃ خلیفہء رسول اللہؐ امیر المؤمنین حضرت سیدنا امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ اور حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کو جنتی نوجوانوں کا سردار قرار دیا گیا ، جو ان کی عظمت و فضیلت کی روشن اور بیِْن دلیل ہے۔
انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ جسے ہدایت سے محروم کر دے ، دنیا کی کوئی طاقت اسے ہدایت نہیں دے سکتی ۔ محض قرآن کی تلاوت کافی نہیں ، بلکہ اس پر صحیح عقیدہ اور اخلاص کے ساتھ عمل بھی ضروری ہے ۔
اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ اسلام کی مٹھاس حاصل کرنے کے باوجود اگر کوئی شخص اپنے بزرگوں ، اہلِ بیتِ اطہار ، صحابۂ کرام اور اولیاءاللہ اللہ کی بے ادبی کا مرتکب ہو تو اسے اپنے انجام سے ڈرنا چاہیے ۔ اگر کوئ اپنے گھر کے بڑے بزرگوں کی اہانت کا مرتکب ہوتا ہے تو سرکار دوعالمؐ نے ارشاد فرمایا کہ جو بڑوں کی عزت اور چھوٹوں سے شفقت و مہربانی سے نہ پیش آئے وہ ہم میں سے نہیں ہے حضور پیرانِ پیر حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ ، عطائے رسول حضرت خواجہ معین الدین غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ ، حضرت خواجہ بہاء الدین نقشبند رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر اولیائے کرام کی محبت و تعظیم ہر اہلِ ایمان کے لئے باعثِ سعادت مندی وفیروز مندی ہے ۔
انہوں نے مزید فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب انبیائے کرام علیہم السلام واولیاء اللہ کو اپنی مشیت کے مطابق علمِ غیب عطا فرمایا ، معجزات و کرامات سے سرفراز کیا -علامہ ثاقب پاشاہ نے حضور اکرمؐ کو عطا کردہ معجزات کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ ہر نبیؑ کو ایک ایک معجزہ دے کر اللہ جل مجدہ نے دنیا میں بھیجا ہمارے آقارحمۃ اللعٰلمینؐ کو سرتاپا معجزہ بناکر بھیجا جس میں سورج کے پلٹ جانے کامعجزہ ، چاند کے شق ہونے اور حضور اکرم صل اللہ علیہ وعلیٰ آلہ وصحبہ وسلم کی مبارک انگلیوں سے میٹھے پانی جاری ہونے ،شجر وحجر کو بلاتے ہی درودپاک آپؐ پر پڑھتے ہوئے حاضر ہونے ، ابوجہل کے ہاتھ میں بے جان کنکریاں کلمہء طیبہ پڑھنے اور معراج النبیؐ آسمانوں کی سیروسیاحت ،بیت المقدس میں ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام و مرسلین عظام کی امامت فرمانے ساتوں آسمانوں کی سیر ،رب کائینات کا دیدار ، جنت و جہنم کی سیر ،ملائکہء مقربین سے ملاقات جیسے عظیم الشان معجزات اس کی روشن مثالیں ہیں سب سے بڑا معجزہ قرآن حکیم ہے جو قیام قیامت تک عوام الناس کے لئے نیک ہدایت و مِشعل راہ نجات ومغفرت کا باعث ہے ، جن پر ایمان رکھنا اہلِ ایمان کے عقیدے کا اہم حصہ ہے۔
انہوں نے ببانگ دہل کہاکہ اگر اہل بیت کرام و خلفائے راشدین اور صحابہء کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اولیاء اللہ و صوفیاء رحمہم اللہ کے عزتوں اور عظمتوں کے اگر کوئ محافظ رہیں ہیں تو یہی صوفیاء کے آستانے و خانقاہیں ہیں –
آخر میں انہوں نے مسلمانوں کو نصیحت کی کہ وہ قرآن و سنت ، محبتِ رسول صل اللہ علیہ وعلیٰ آلہ وصحبہ و سلم ، اہلِ بیتِ اطہار ، صحابۂ کرام اور اولیائے کرام کی تعلیمات کو مضبوطی سے تھامیں ، اتحاد و اتفاق کو فروغ دیں اور ہر قسم کے فتنہ ، انتشار اور نفرت سے خود کو محفوظ رکھیں چونکہ یہ سارے معاملات قرب قیامت کے فتنے و فسادات ہیں ہم سب کو ان فتنے و فسادات سے سختی کیساتھ احتراز کرنا چاہیئے جس کے لئے اولیاء اللہ اور راسخ العقیدہ علماء کرام کے دامنوں سے چمٹے رہنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔ شہہ نشین پر رئیس القلم فصیح اللسان حضرت علامہ مفتی محمد فصیح الدین نظامی سابق صدر مہتمم کتب خانہ جامعہ نظامیہ، حضرت سید شاہ ندیم اللہ حسینی سجادہ نشین حضرت شاہ راجو قتال حسینیؒ ،حضرت سیدشاہ قبول اللہ محمد محمد الحسینی برادر سجادہ نشین حضرت علامہ ڈاکٹر سید شاہ محمد عبدالمعز حسینی رضوی قادری شرفی سجادہ نشین حضرت مدنی پاشاہؒ ، حضرت مولانا الحاج سید شاہ منتجب الدین حسینی رضوی قادری شرفی سجادہ نشین حضرت سقافؒ بہادرپورہ ، حضرت مولانا الحاج سید شاہ فرید الدین حسینی رضوی قادری شرفی المعروف بہ فرید پاشاہ سجادہ نشین شرفی چمن پالکنڈہ و متولی جامع مسجد پالکنڈہ محبوب نگر ، حضرت مولانا الحاج خواجہ ابوتراب شاہ قادری چشتی یمنی بندہ نوازی المعروف بہ تُراب قدیری سجادہ نشین بارگاہ ہلکٹہ شریف کرناٹک ، حضرت مولانا ڈاکٹر خواجہ شاہ محمد شجاع الدین چشتی افتخاری حقانی پاشاہ سجادہ نشین، حضرت مولانا الحاج سید لیاقت حسین رضوی قادری سجادہ نشین حضرت امراللہ شاہ صاحبؒ ، مولانا الحاج سید رفعت علی نقشبندی نلدرگ ، مفسرقرآن حکیم حضرت علامہ محمد محی الدین قادری محمودی مولوی کامل جامعہ نظامیہ و خازن کل ہند انجمن طلباء قدیم جامعہ نظامیہ، حضرت مولانا حافظ الحاج مفتی محمد مستان علی طاہری قادری مولوی کامل جامعہ نظامیہ و ناظم اعلی جامعۃ المؤمنات ، مولانا طارق جلیل نقشبندی ، مولانا مرشد پاشاہ قادری ، مولانا حافظ الحاج سید اسحاق محی الدین قادری بانی مدرسہء باب العلم انوار محمدیؐ ، مولانا حافظ محمد خان نقشبندی صدر شعبہء عربی باب العلم انوار محمدیؐ ، مولانا حافظ محمد صابر پاشاہ طاہری قادری مولوی کامل جامعہ نظامیہ و امام حج ہاؤز ، مولانا قطب الرحمان افتخاری قادری سنگاریڈی ، مولانا مفتی ڈاکٹر محمد عبدالواسع قادری نقشبندی ، جناب محمد مظہر الدین قادری ، اسدالعلماء تنویر صحافت مولانا محمد محسن پاشاہ انصاری قادری نقشبندی مجددی مولوی کامل الحدیث جامعہ نظامیہ و جنرل سیکریٹری کل ہند سنی علماء مشائخ بورڈ محبوب نگر ضلع ، حضرت علامہ مفتی محمد آصف رضا اشرفی بہار ، جناب الحاج محمد رفیق پٹیل قادری قدیری ، مولوی محمد معین مازن انصاری جامع السلاسل کے علاوہ سینکڑوں افراد موجود تھے – جلسہ کا آغاز قراءت کلام پاک ، نعت شریف ، منقبتی کلام سے ہوا اور اختتام صلوۃ وسلام بحضور خیرالانامؐ پر ہوا بعد اختتام جلسہ جمیع شرکاء کے لئے تناول طعام خاص و عام کا اہتمام کیا گیا تھا – بعدازاں محفل سماع بھی منعقد ہوئ جو رآت دیر گئے تک جاری رہی –



