ووٹر لسٹ سے نام حذف ہونے پر شہریت کا فیصلہ الیکشن کمیشن نہیں کر سکتا: سپریم کورٹ

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے ایک اہم مقدمے کی سماعت کے دوران واضح کیا کہ کسی شخص کی شہریت کا فیصلہ کرنے کا اختیار الیکشن کمیشن (ای سی) کے پاس نہیں ہے۔
عدالت نے اس معاملے پر بھی غور کرنے سے اتفاق کیا کہ اگر کسی کا نام ووٹر لسٹ سے حذف کر دیا جائے تو کیا اسے سرکاری فلاحی اسکیموں سے بھی محروم کیا جا سکتا ہے؟
یہ معاملہ مغربی بنگال میں جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن کے دوران ووٹر فہرست سے نام خارج کیے گئے افراد کو راشن اور دیگر سماجی بہبود کی اسکیموں سے محروم نہ کرنے کی درخواست سے متعلق ہے۔
سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز الیکشن کمیشن اور مغربی بنگال حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی اگلی سماعت 25 جولائی تک ملتوی کر دی۔
معروف سماجی کارکن پرسنجیت بوس کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ صرف ووٹر لسٹ سے نام حذف ہونے کی بنیاد پر عوام کو راشن (پی ڈی ایس)، اناپورنا اسکیم، ذات کے سرٹیفکیٹ، سماجی پنشن اور دیگر بنیادی سرکاری سہولتوں سے محروم کرنا آئین کے منافی ہے۔
درخواست میں کہا گیا کہ جب تک شہریت یا حقِ رائے دہی سے متعلق تنازع کا حتمی فیصلہ نہیں ہو جاتا تب تک متاثرہ افراد کو فلاحی اسکیموں سے محروم نہ کیا جائے۔درخواست گزار کی جانب سے سینئر وکیل گوپال شنکر نارائنن نے عدالت کو بتایا کہ مغربی بنگال میں خصوصی ٹریبونلز کے سامنے تقریباً 34 لاکھ اپیلیں زیر التوا ہیں
جبکہ اب تک صرف 38 ہزار اپیلوں کا فیصلہ ہو سکا ہے۔ مزید یہ کہ ریاست میں صرف 19 ٹریبونلز موجود ہیں جن میں سے دو جج مستعفی ہو چکے ہیں۔ ایسی صورتحال میں حتمی فیصلہ آنے سے پہلے فلاحی اسکیمیں روک دینا غریب عوام کے لیے شدید مشکلات کا باعث بن رہا ہے۔
انہوں نے یہ بھی استدلال کیا کہ اگر کسی شخص کے پاس ہندوستانی پاسپورٹ موجود ہے تو اسے شہریت کا کافی ثبوت تسلیم کیا جانا چاہیے اور اس سے مزید دستاویزات طلب کرنا مناسب نہیں۔
جسٹس باگچی نے سماعت کے دوران کہا کہ سپریم کورٹ پہلے بھی بہار میں ایس آئی آر سے متعلق مقدمے میں واضح کر چکی ہے کہ کسی شخص کے بھارتی شہری ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرنے کا اختیار الیکشن کمیشن کو حاصل نہیں ہے۔
اگر شہریت کے بارے میں کوئی شبہ ہو تو الیکشن کمیشن اس معاملے کو وزارتِ داخلہ کے پاس بھیج سکتا ہے، تاہم خود شہریت کا فیصلہ نہیں کر سکتا۔عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ قانون کے مطابق ووٹر فہرست کی نگرانی نظرثانی اور انتظام کا اختیار ضرور الیکشن کمیشن کے پاس ہے لیکن شہریت کا تعین اس کے دائرۂ اختیار میں نہیں آتا۔
درخواست گزار نے آئین کے آرٹیکل 142 کے تحت سپریم کورٹ سے استدعا کی کہ جب تک شہریت سے متعلق تنازعات کا فیصلہ نہیں ہو جاتا متاثرہ افراد کی فلاحی اسکیموں میں کوئی رکاوٹ نہ آنے دی جائے۔ عدالت نے کہا کہ اس مطالبے پر آئندہ سماعت میں تفصیلی غور کیا جائے گا۔




