نیشنل

خود ساختہ صحافیوں پر دہلی ہائی کورٹ کی سخت تنقید – کہا موبائل ہاتھ میں آتے ہی رپورٹر بن جاتے ہیں

موبائل رکھنے والا ہر شخص آج صحافی بن جاتا ہے، میڈیا کو منظم کرنے کے لئے قانون ضروری: دہلی ہائی کورٹ

 

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ پریس کی آزادی غیر ذمہ دارانہ صحافت، دھمکی آمیز رویے یا عوامی امن کو خطرے میں ڈالنے والے مواد کے لئے ڈھال نہیں بن سکتی۔ عدالت نے میڈیا کو منظم کرنے کے لئے پریس کی آزادی برقرار رکھتے ہوئے مناسب قانونی فریم ورک بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

 

جسٹس گریش کٹپالیا نے کہا کہ آج تقریباً ہر وہ شخص جس کے ہاتھ میں موبائل فون اور مائیک ہو، خود کو رپورٹر قرار دے دیتا ہے، حالانکہ اکثر افراد کے پاس صحافتی تربیت، اخلاقی سمجھ اور جواب دہی نہیں ہوتی۔

 

عدالت دو فری لانس یوٹیوب رپورٹرز پر حملے کے الزام میں گرفتار دو افراد کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کررہی تھی۔ یہ واقعہ جولائی 2025 میں سیماپوری میں پیش آیا تھا، جہاں دونوں رپورٹرز مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی عبادت گاہ کے بارے میں ویڈیو بنا رہے تھے۔ استغاثہ کے مطابق ہجوم نے رپورٹرز سے کیمرے کی بیٹری اور موبائل فون چھین لئے تھے۔

 

اس معاملے میں عابد علی اور فرقان کو ہجوم کا حصہ ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ عابد علی نے عدالت کو بتایا کہ وہ صرف وہاں موجود تھا، جبکہ فُکران نے دعویٰ کیا کہ وہ واقعہ کے وقت موقع پر موجود ہی نہیں تھا۔

 

عدالت نے مشاہدہ کیا کہ ویڈیو بناتے وقت میڈیا سے وابستہ افراد نے بظاہر مقامی لوگوں کو مشتعل کیا تھا۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ بعض خود ساختہ رپورٹر خبر بنانے کے دوران لوگوں سے جارحانہ انداز میں سوال کرتے ہیں اور گمراہ کن بیانیہ پیش کرتے ہیں۔

 

عدالت نے یک طرفہ رپورٹنگ، سنسنی خیزی اور غیر مصدقہ الزامات شائع کرنے کے خطرات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ عدالت نے کہا کہ ایسے رویے سے سماجی تقسیم بڑھ سکتی ہے، جذبات بھڑک سکتے ہیں اور بعض اوقات فرقہ وارانہ کشیدگی یا عوامی بدامنی بھی پیدا ہوسکتی ہے۔

 

جسٹس کٹپالیا نے کہا کہ عوامی رائے کو متاثر کرنے کی طاقت کے ساتھ میڈیا پر تحمل، انصاف اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ مقننہ پریس کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے پیشہ ورانہ جواب دہی، اخلاقی معیار اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لئے مناسب قانونی فریم ورک پر غور کرے۔

 

ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کے دوران عدالت نے تفتیشی افسر کی جانب سے عدالت کے سامنے کئے گئے ایک مبینہ غلط دعوے پر بھی ناراضگی ظاہر کی۔ تفتیشی افسر نے دعویٰ کیا تھا کہ ملزمین واقعہ کی ویڈیو میں حملہ کرتے ہوئے نظر آئے تھے، تاہم عدالت نے اس دعوے میں تضاد پایا۔

 

عدالت نے تفتیشی افسر کے تضاد کی وضاحت کے لئے عدالت میں حاضر نہ ہونے پر بھی سخت اعتراض کیا۔ جسٹس کٹپالیا نے کہا کہ وکلا کی ہڑتال اپنی جگہ، لیکن جج اور پولیس ہڑتال پر نہیں ہوسکتے۔ انہوں نے کہا کہ ضمانت جیسے معاملات میں بھی تفتیشی ایجنسی کی جانب سے عدالت کی مؤثر مدد نہ کرنا قابل قبول نہیں ہے۔

 

بعد ازاں عدالت نے عابد علی اور فرقان دونوں کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button