نیشنل

غیر قانونی تعمیرات پر بلڈوزر چلانے کی اجازت – سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ آئینی دفعات اور قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کئے گئے غیر قانونی تعمیرات کے خلاف بلڈوزر چلانے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ تاہم عدالت نے کہا کہ انہدام کی کارروائی قانونی طریقے سے، نوٹس جاری کرنے اور مناسب مہلت دینے کے بعد ہی کی جانی چاہئے۔

 

سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ نومبر 2024 میں بلڈوزر انہدام کے معاملے میں دیا گیا فیصلہ صرف مختلف مقدمات میں ملزمین کے مکانات منہدم کرنے سے متعلق تھا۔ عدالت نے کہا کہ قانون نافذ کرنے کے نام پر افراد کو نشانہ نہ بنایا جائے، یہی اس فیصلے میں دی گئی ہدایات کا مقصد تھا۔

 

اسی بنیاد پر عدالت نے گجرات کے سومناتھ میں مساجد کے انہدام، مہاراشٹرا اور دیگر ریاستوں میں تعمیرات منہدم کرنے کے معاملے میں حکام کے خلاف توہین عدالت کی درخواستوں کی سماعت سے انکار کردیا۔ ان تمام درخواستوں کو متعلقہ ریاستوں کی ہائی کورٹس منتقل کردیا گیا۔

 

سپریم کورٹ نے ہائی کورٹس کو مقامی حالات اور مقدمات کے میرٹ کی بنیاد پر، جہاں تک ممکن ہو چار ماہ کے اندر معاملات کو حل کرنے کی ہدایت دی۔ تاہم عدالت نے کہا کہ ہائی کورٹس میں مقدمات کی سماعت مکمل ہونے تک سپریم کورٹ کی جانب سے دی گئی عبوری راحت برقرار رہے گی۔

 

چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وی. موہن پر مشتمل بنچ نے جمعرات کو یہ احکامات جاری کئے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button