ملک کی پہلی ہائیڈروجن ٹرین پٹری پر دوڑ پڑی، وزیراعظم نریندر مودی نے دکھائی جھنڈی

ہندوستانی ریلوے کی تاریخ میں ایک نئے دور کا آغاز ہوگیا ہے۔ ریلوے کے شعبے میں ماحول دوست طریقے متعارف کرانے کی سمت اہم قدم اٹھایا گیا ہے۔ ملک میں پہلی بار ہائیڈروجن سے چلنے والی ٹرین جمعہ کو پٹری پر دوڑ پڑی۔ ہریانہ کے جند ریلوے اسٹیشن پر وزیر اعظم نریندر مودی نے جھنڈی دکھا کر ٹرین کا افتتاح کیا۔
یہ ہائیڈروجن ٹرین ابتدا میں شمالی ریلوے کے جند-سون پت سیکشن پر چلائی جائے گی۔ یہ 89 کلومیٹر کا سفر کرے گی اور راستے میں 12 اسٹیشنوں پر رکے گی۔ 10 کوچز پر مشتمل اس ٹرین میں 2,600 مسافر سفر کرسکتے ہیں۔ حکام کا منصوبہ ہے کہ جلد ہی کالکا-شملہ جیسے ثقافتی ورثے والی ریلوے لائنوں پر بھی ہائیڈروجن ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے۔
فی الحال ہندوستان میں دستیاب برقی ٹرینیں اوپر نصب برقی تاروں سے توانائی حاصل کرتی ہیں، جبکہ روایتی ڈیزل ٹرینوں کے انجن ایندھن جلا کر طاقت پیدا کرتے ہیں۔ ہائیڈروجن ٹرین خود برقی توانائی پیدا کرتی ہے۔ اس کے لئے ٹرین میں ’پروٹون ایکسچینج میمبرین فیول سیل‘ نامی ایک چھوٹا پاور پلانٹ نصب کیا گیا ہے۔
دنیا بھر میں ہائیڈروجن ٹرینیں ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں۔ جرمنی نے سب سے پہلے یہ ٹیکنالوجی متعارف کرائی تھی۔ فرانس، اٹلی، چین اور جاپان جیسے ممالک میں اس کا تجرباتی یا محدود پیمانے پر استعمال ہورہا ہے۔
اس ٹرین کے فیول سیل کی صلاحیت 1,200 کلو واٹ ہے، جس میں ہائیڈروجن اور آکسیجن کے درمیان کیمیائی عمل کے ذریعے برقی توانائی پیدا ہوتی ہے۔ ہائیڈروجن ٹینکوں کے ذریعے ٹرین میں لائی جاتی ہے، جبکہ آکسیجن آس پاس کی ہوا سے حاصل کی جاتی ہے۔
اس طرح پیدا ہونے والی برقی توانائی ٹرین کی ٹریکشن موٹروں کو طاقت فراہم کرتی ہے، جو پہیوں کو چلاتی ہیں۔ اس کے پروپلشن سسٹم کی طاقت 3,200 ہارس پاور ہے۔ اس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 75 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔
یہ صاف ایندھن کی ٹیکنالوجی ہے۔ اس عمل میں صرف پانی کی بھاپ اور حرارت پیدا ہوتی ہے۔ چونکہ اس میں ایندھن جلانے کا عمل نہیں ہوتا، اس لئے نقصان دہ دھواں یا کاربن اخراج نہیں ہوتا۔ شور بھی کم ہوتا ہے۔
ٹرین میں مسلسل وینٹی لیشن کا نظام موجود ہے، جو ہوا کو باہر نکالتا رہتا ہے۔ اس لئے اگر ہائیڈروجن لیک بھی ہوجائے تو وہ ہوا میں پھیل کر کم ہوجاتی ہے۔ کسی خطرے کا پتہ چلنے پر خودکار شٹ آف سسٹم ہائیڈروجن کی سپلائی فوراً بند کردیتا ہے۔
ٹرین میں کئی سطحوں پر مشتمل حفاظتی نظام نصب ہے، جو ہائیڈروجن لیکیج، زیادہ گرمی، آگ اور دھویں جیسے خطرات پر مسلسل نظر رکھتا ہے۔ کسی بھی مسئلے کی صورت میں یہ نظام چند سیکنڈ میں خبردار کردیتا ہے۔
حفاظت کو ترجیح دیتے ہوئے لوکو پائلٹ کیبن کو بھی خصوصی طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے۔ لوکو پائلٹ کے سامنے نصب اسکرین پر تمام اہم معلومات مسلسل دکھائی دیتی ہیں۔




