تلنگانہ

قدیم مخطوطات کا تحفظ مشترکہ تہذیبی ورثے کی حفاظت ہے: ایرانی قونصل جنرل حمید احمدیہ

اسلامی جمہوریہ ایران کے قونصل جنرل عالی جناب حمید احمدیہ نے 2 جولائی 2026 کو تلنگانہ اسٹیٹ آرکائیوز اینڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (TSARI) کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ادارے کی ڈائریکٹر ڈاکٹر زرینہ پروین سے ملاقات کی اور نور انٹرنیشنل مائیکرو فلم سینٹر کی جانب سے قدیم مخطوطات کے تحفظ، مرمت اور ڈیجیٹائزیشن کے جاری کاموں کا جائزہ لیا۔

 

اس موقع پر قونصل جنرل کو ادارے کی جانب سے بھارت اور ایران کے مشترکہ تہذیبی، تاریخی اور علمی ورثے سے متعلق نایاب مخطوطات کے تحفظ، مرمت اور ڈیجیٹل محفوظ سازی کے اقدامات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ انہوں نے تلنگانہ اسٹیٹ آرکائیوز اور نور انٹرنیشنل مائیکرو فلم سینٹر کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ کام دونوں ممالک کے مشترکہ ثقافتی ورثے کے تحفظ میں ایک قابلِ قدر اور تاریخی خدمت ہے۔

 

عالی جناب حمید احمدیہ نے کہا کہ قدیم مخطوطات علم، تاریخ، ادب اور فنونِ لطیفہ کا بیش بہا خزانہ ہیں، جو گزشتہ تہذیبوں کی فکری اور ثقافتی شناخت کو آج تک محفوظ رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے نادر مخطوطات اہم علمی اور ادبی تصانیف کے واحد دستیاب نسخے ہیں، اس لیے ان کا تحفظ عالمی اہمیت کا حامل ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ وقت گزرنے، نمی، آگ اور قدرتی آفات کے باعث یہ مخطوطات شدید نقصان کے خطرے سے دوچار رہتے ہیں، لہٰذا ان کی ڈیجیٹائزیشن نہ صرف آنے والی نسلوں کے لیے اس قیمتی سرمایۂ علم کو محفوظ بناتی ہے بلکہ دنیا بھر کے محققین کو اصل نسخوں کو نقصان پہنچائے بغیر ان سے استفادہ کرنے کا موقع بھی فراہم کرتی ہے۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل محفوظ سازی کے ذریعے نایاب مخطوطات تک عوام اور محققین کی رسائی آسان ہوتی ہے، معلومات کی درجہ بندی، تلاش اور انتظام بہتر انداز میں ممکن ہوتا ہے، اصل مخطوطات کو بار بار استعمال سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے اور ان کے طویل المدتی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

 

اپنے خطاب کے اختتام پر قونصل جنرل نے کہا کہ قدیم مخطوطات کی ڈیجیٹائزیشن محض ایک تکنیکی عمل نہیں بلکہ یہ تہذیبی ورثے، تاریخی شناخت اور گزشتہ نسلوں کے علمی سرمایہ کو محفوظ رکھنے اور آئندہ نسلوں تک منتقل کرنے کی ایک اہم قومی اور بین الاقوامی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button