سفیر ہند سہیل اعجاز خان کی سعودی میں معیاد ختم۔ اگلا پڑاؤ دہلی۔ الوداعی تقاریب کا انعقاد

کے این واصف
ڈاکٹر سہیل اعجاز خان کی بحیثیت سفیر ہند معیاد ختم ہونے پر انڈین کمیونٹی کی مختلف سماجی تنظیمیں مملکت میں اپنے ہردلعزیز و مقبول سفیر کو شاندار پیمانے پر الوداعی تقاریب کا اہتمام کررہی ہیں۔ اسی سلسلہ میں سعودی عرب کی معروف تعمیراتی کمپنی MASAH اسپشلائزڈ کنسٹرکشن کمپنی کے CEO انجینئر محمد یوسف اور CGO انجینئر محمد عبدالباری نے اپنی کمپنی کی جانب سے سفیر ہند ڈاکٹر سہیل اعجاز خان کو تہنیت پیش کی۔
سفیر ہند ڈاکٹر سہیل اعجاز خان بھی اپنے پیش رو ڈاکٹر اوصاف سعید کی طرح کمونٹی سے قربت رکھنے اور آسانی سے عوامی رابطہ میں آنے کے وصف کی بنیاد پر ہندوستانی کمیونٹی میں بہت مقبول ہیں۔ ڈاکٹر سہیل نے تین سال قبل “پرواسی پریچئے” کے عنوان سے ایک عوامی پروگرام کا آغاز کیا تھا۔ ہر سال اوائلِ نومبر میں ہونے والے اس ایک ہفتہ طویل پروگرام میں انڈین ایمبیسی آڈیٹوریم کے اسٹیج سے ہندوستانی کلچر کو شاندار پیمانے پر اجاگر کیا جاتاہے۔ گوکہ یہ پروگرام وزارت خارجہ ہند تجویر کا حصّہ ہے۔ مگر ڈاکٹر سہیل اعجاز خان کی خصوصی دلچسپی نے ایک نئی جہت عطا کی اور اس پروگرام کو کمیونٹی کا ایک منفرد اور دلچسپ ترین پروگرام بنادیا۔
یہاں اس بات کا تذکرہ کرنا بے محل نہ ہوگا کہ شہرِ ریاض کو “منی انڈیا” ( چھوٹا ہندوستان) کی حیثیت حاصل ہے۔ کیونکہ یہاں کم و بیش ہندوستان کی تمام ریاستوں کے باشندے بسلسلہ روزگار مقیم ہیں۔ ایک ہفتہ چلنے والے “پرواسی پریچئے” پروگرام میں ہر روز تین، چار ریاستوں کے باشندے اپنی ریاست کے پروگرام پیش کرتے ہیں۔ جس میں اپنی ریاست کی معلومات پر مبنی ڈاکیومنٹریز، روایتی رقص، لوک سنگیت اور مقامی رویات کی جھلکیاں پیش کرتے ہیں۔ اس سے نہ صرف ہماری قدیم روایات کا اعادہ ہوتا ہے بلکہ ہماری نئی نسل اپنی قدیم روایات سے واقف ہوتی ہیں جو سعودی عرب میں پیدا ہوئی اور یہین پروان پڑھ رہی ہے۔ یہ پروگرام ہر روز شام چھ بجے سے نصف شب تک چلتا ہے اور ڈاکٹر سہیل ہر روزانہ چھ گھنٹوں سے زائد عرصہ کمیونٹی کے بیچ رہتے ہیں جو ان کی عوامی مقبولیت کی بڑی وجہ ہے۔
ویسے بھی وہ مزاجاً ایک حلیم الطبع شخص واقع ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر سہیل سعودی میں سفیر متعین ہونے سے قبل لبنان میں سفیر ہند تھے۔
کیریئر کی جھلکیاں :
٭ ڈاکٹر سہیل اعجاز خان ایک کیریئر ڈپلوماٹ ہیں۔ وہ 25 سال کا سفارتی تجربہ رکھتے ہیں۔
٭ ڈاکٹر خان ایک میڈیکل گریجویٹ ہیں۔ انھون نے MGM میڈیکل کالج اندور سے MBBS کیا۔
٭ مدھیہ پردیش سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر سہیل 1997 میں انڈین فارن سروس سے منسلک ہوئے۔
٭ انھون نے مصر سے عربی زبان میں اڈوانس ڈپلوما کیا۔
٭ ان کی بحیثیت ڈپلوماٹ پہلی پوسٹنگ مصر میں 1999سے 2001 رہی۔
٭ انھون نے سفارت خانہ ہند، دمشق میں سن 2002 سے 2005 خدمات انجام دیں۔
٭ وہ انڈین قونصلیٹ جدہ میں سن 2005 سے 2008 تک حج کونسل رہے۔
٭ ڈاکٹر خان WANA (ویسٹ ایشاء نارتھ آفریقہ) میں سن 2008 سے 2009 ڈپٹی سکریٹری رہے۔
٭ انھوں نے ہائی کمیشن آف پاکستان، اسلام آباد، میں سن 2009 سے 2011 تک ویزا آفیسر خدمات انجام دیں۔
٭ ڈاکٹر خان سن 2011 سے 2013 وزارت ہند دہلی میں ڈائریکٹر رہے۔
٭ ڈاکٹر سہیل سن 2013 میں ڈپٹی چیف آف مشن کی حیثیت سے Vienna منتقل ہوئے۔ جہان انھون نے ہندوستان کے پرمننٹ مشن میں 2017 تک خدمات انجام دیں۔
٭ وہ سعودی عرب میں دوسری مرتبہ سن 2017 مین بحیثیت نائب سفیر ہند مقرر کئے گئے۔ جہان انھون نے 2019 تک خدمات انجام دین۔ اس دوران انھین سفیر کا درجہ حاصل ہوا۔
٭ ڈاکٹر خان سن 2019 سے سن 2023 سے سفیر ہند برائے لبنان رہے۔
٭ ڈاکٹر سہیل نے 15 جنوری 2023 کو بحیثیت سفیر ہند برائے سعودی عرب کا جائزہ حاصل کیا۔ وہ بیک وقت سفیر ہند برائے یمن کی زائد ذمہ داری میں بھی ہیں۔ ڈاکٹر خان ماہ رواں کے آخر میں ریاض میں اپنی معیاد پوری کرکے وزارتِ خارجہ ہند دہلی میں اپنی نئی ذمہ داری کا جائزہ حاصل کریں گے۔




