ایران نے صرف ٹریلر دیکھا ہے، فلم ابھی باقی ہے: ٹرمپ

نئی دہلی: امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اس تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک اور سخت انتباہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ فی الحال ایران کو کسی صورت نہیں چھوڑے گا۔
ٹرمپ نے خبردار کیا کہ جوہری مرکز کے قریب واقع پک ایکس پہاڑ پر شدید حملے کیے جائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ اس پہاڑ کے نیچے قائم خفیہ زیرِ زمین تنصیبات میں ایران دوبارہ اپنے جوہری پروگرام کو فعال کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو دوبارہ جوہری ہتھیار تیار کرنے سے روکنے کے لیے ان تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اب تک ایران پر ہونے والے حملے صرف "ٹریلر” تھے اصل کارروائی ابھی باقی ہے۔ٹرمپ کے مطابق اس وقت ایران کے پاس تقریباً 1,000 پاؤنڈ افزودہ یورینیم موجود ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کے پاس ایسے شواہد ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ایران پک ایکس پہاڑ کے نیچے اپنے جوہری پروگرام کو آگے بڑھا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان تنصیبات کو تباہ کر کے تمام افزودہ یورینیم اپنے قبضے میں لینے کے لیے جلد فوجی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جنگ اسی طرح جاری رہی تو ایران کو شدید تباہی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔امریکہ نے ایران پر اپنی کارروائیاں مزید تیز کر دی ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق دارالحکومت تہران سمیت ملک کے مختلف شہروں میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق امریکی حملوں میں آپریشن سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہوں اور بعض رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے علاوہ چابہار بندرگاہ پر بھی دوبارہ میزائل حملے کیے گئے۔
دوسری جانب ایران نے امریکی حملوں کے جواب میں قطر، کویت اور بحرین کی جانب میزائل اور ڈرون داغنے کا دعویٰ کیا ہے۔امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات میں پاکستان کے ثالثی کردار کے پس منظر میں ایرانی وزیر مومنی نے راولپنڈی میں پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے تقریباً 50 منٹ تک ملاقات کی۔
دونوں رہنماؤں نے مغربی ایشیا میں کشیدگی کم کرنے کے اقدامات پر تبادلۂ خیال کیا۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ملاقات کے بعد ایرانی سپریم لیڈر کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کا ایک خفیہ پیغام بھی جنرل عاصم منیر کے حوالے کیا گیا۔



