اسکوٹی پر اسمبلی پہنچنے والے سادگی پسند بزرگ رکن اسمبلی عالم بدیع اعظمی کا انتقال
اتر پردیش کے معمر ترین سماجوادی پارٹی (ایس پی) کے رکن اسمبلی عالم بدیع اعظمی انتقال کر گئے۔ وہ 90 برس کے تھے اور کافی عرصے سے علیل تھے۔ بدھ کی دیر رات انہوں نے اعظم گڑھ میں اپنی رہائش گاہ پر آخری سانس لی۔ وہ نظام آباد اسمبلی حلقے سے پانچ مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ آج شام 4 بجے انہیں سپردِ خاک کیا جائے گا۔
گاندھی وادی طرزِ زندگی کے لیے مشہور عالم بدیع اعظمی کو ملائم سنگھ یادو اور اکھلیش یادو کے قریبی قائدین میں شمار کیا جاتا تھا۔ وہ اپنی دیانت داری اور سادہ زندگی کے باعث خاص پہچان رکھتے تھے۔ وہ جدید اسمارٹ فون کے بجائے ہمیشہ کی پیڈ والا موبائل استعمال کرتے تھے۔ تقریباً چھ ماہ قبل وہ اسکوٹی پر سوار ہو کر اتر پردیش اسمبلی پہنچے تھے، جس کے بعد وہ خبروں میں چھا گئے تھے۔
13 اپریل کو طبیعت زیادہ خراب ہونے پر انہیں لکھنؤ کے میدانتا اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ اس کے بعد مئی، جون اور جولائی کے دوران بھی ان کا علاج مسلسل میدانتا اسپتال میں جاری رہا۔ چند روز قبل ہی انہیں اسپتال سے ڈسچارج کیا گیا تھا۔
16 مارچ 1936 کو اعظم گڑھ میں پیدا ہونے والے عالم بدیع اعظمی 1996 سے 2007 تک مسلسل نظام آباد اسمبلی حلقے سے رکن اسمبلی رہے۔ وہ انتہائی سادہ زندگی گزارتے تھے اور صرف 30 روپے فی میٹر والے کپڑے سے سلے لباس پہنتے تھے، جو امبیڈکر نگر کی ٹانڈا مل میں تیار ہوتا تھا۔
انہوں نے 1953 میں گورکھپور کے اسلامیہ کالج سے انٹرمیڈیٹ کیا، جبکہ 1956 میں گورکھپور سے مکینیکل انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔
1996 کے اسمبلی انتخابات کے دوران ملائم سنگھ یادو نے انتخابی اخراجات کے لیے انہیں 5 لاکھ روپے بھیجے تھے، لیکن عالم بدیع اعظمی نے یہ رقم لینے سے انکار کر دیا۔ وہ خود رقم لے کر لکھنؤ پہنچے اور ملائم سنگھ کو واپس کرتے ہوئے کہا تھا، "مجھے اس رقم کی ضرورت نہیں ہے۔” یہی واقعہ ان کی ایمانداری اور خودداری کی ایک نمایاں مثال کے طور پر آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔




