نیشنل

” ویڈیو دیکھنے کا وقت نہیں” چیف جسٹس کے ریمارکس پر تنقیدوں کا طوفان

نئی دہلی: دہلی کے جنتر منتر پر نیٹ امتحان کے پرچہ لیک کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ پر پولیس کی جانب سے طاقت کے استعمال کو چیلنج کرنے والی ایک ہنگامی درخواست کی سماعت سے سپریم کورٹ کی چیف جسٹس کی بنچ کی جانب سے انکار کرنے کے بعد مختلف گوشوں سے تنقیدیں کی جارہی ہیں۔

 

درخواست گزار کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ طلبہ پر پولیس کے مبینہ تشدد کے واضح ویڈیو شواہد موجود ہیں لیکن اس کے باوجود عدالت نے مبینہ طور پر کہا "ہمارا وقت ضائع نہ کریں، ہمارے پاس ویڈیوز دیکھنے کا وقت نہیں ہے۔”

 

اس مبینہ تبصرے پر طلبہ قانونی ماہرین اور اپوزیشن جماعتوں نے شدید حیرت اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔ چیف جسٹس جسٹس سوریہ کانت کے ریمارکس پر سوشل میڈیا پر بھی سخت ردِعمل سامنے آیا ہے جہاں کئی صارفین نے سوال اٹھایا کہ اگر عدالت عظمیٰ اس طرح کا رویہ اختیار کرے تو انصاف کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے۔

 

ناقدین کا الزام ہے کہ مرکزی حکومت نے نہ صرف میڈیا اور پولیس بلکہ عدالتی نظام کو بھی اپنے اثر و رسوخ میں لے لیا ہے۔ملک کے مستقبل اور طلبہ کے حقوق کے تحفظ جیسے اہم معاملے پر سپریم کورٹ کے اس مبینہ غیر سنجیدہ رویے پر کاکروچ جنتا پارٹی کے قائدین سمیت بڑی اپوزیشن جماعتوں نے بھی سخت تنقید کی ہے۔

 

ان کا کہنا ہے کہ جمہوری نظام میں شہریوں کو آئینی طور پر پُرامن احتجاج کا حق حاصل ہے اور پولیس کی جانب سے مبینہ جسمانی تشدد پر سپریم کورٹ کو فوری توجہ دینی چاہیے تھی تاہم ان کے مطابق عدالت نے طلبہ کی شکایات سنے بغیر درخواست مسترد کر دی جو انتہائی افسوسناک ہے۔

 

اپوزیشن اور ناقدین کا کہنا ہے کہ انصاف فراہم کرنے کی ذمہ داری رکھنے والے ججوں کی جانب سے اس قسم کے ریمارکس عام لوگوں کے عدالتی نظام اور قانون پر اعتماد کو متاثر کر سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button