جنتر منتر ہنگامہ: تشدد میں ملوث افراد پر بڑا ایکشن، پاسپورٹ منسوخی کا امکان

دہلی تشدد: احتجاج میں ملوث افراد کے پاسپورٹ منسوخ ہو سکتے ہیں
نئی دہلی: دہلی پولیس نے کہا ہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کے دوران تشدد میں براہِ راست ملوث افراد کے پاسپورٹ منسوخ کیے جا سکتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے مطابق، پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج، ویڈیو ریکارڈنگ اور دیگر تکنیکی شواہد کی مدد سے تشدد اور ہنگامہ آرائی میں ملوث افراد کی شناخت کی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق، جن افراد کے تشدد میں ملوث ہونے کی تصدیق ہوگی، ان کے خلاف متعلقہ قوانین کے تحت پاسپورٹ منسوخ کرنے کی کارروائی بھی شروع کی جا سکتی ہے۔
یہ کارروائی جنتر منتر کے قریب این ای ای ٹی پرچہ لیک معاملے پر ہونے والے احتجاج کے دوران پیش آئے تشدد کے بعد کی جا رہی ہے۔ دہلی پولیس کے مطابق، انسپکٹر نند کشور سنگھ اپنی گاڑی سے ڈیوٹی پوائنٹ کی جانب جا رہے تھے کہ مظاہرین کے ایک گروپ نے ان پر حملہ کر دیا۔
انسپکٹر نند کشور سنگھ نے بتایا کہ وہاں چار سے پانچ ہزار افراد موجود تھے جو پولیس اور حکومت مخالف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے کہا، "میں نے انہیں طلبہ سمجھا اور اپنی ڈیوٹی انجام دینے جا رہا تھا، لیکن مظاہرین نے مجھ پر لاٹھیوں، ڈنڈوں، پتھروں اور دیگر نوکیلی اشیا سے حملہ کر دیا۔ میں زخمی ہو گیا اور بڑی مشکل سے وہاں سے نکل سکا۔ حملے کے وقت میں وردی میں تھا۔”
پولیس کے مطابق، مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں کئی پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ عوامی املاک کو نقصان پہنچانے اور پولیس اہلکاروں پر حملہ کرنے والوں کی شناخت کے لیے تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔



