وقت اللہ تعالیٰ کی عظیم امانت ہے، اس کا ایک ایک لمحہ دنیا و آخرت کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ کرتا ہے: مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری

وقت اللہ تعالیٰ کی عظیم امانت ہے، اس کا ایک ایک لمحہ دنیا و آخرت کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ کرتا ہے: مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری
حیدرآباد، 23 جولائی(پریس ریلیز )انسانی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ مال و دولت، جائیداد یا اقتدار نہیں بلکہ وقت ہے۔ دنیا کی ہر کھوئی ہوئی چیز کسی نہ کسی صورت دوبارہ حاصل کی جا سکتی ہے، لیکن گزرے ہوئے لمحے کو دنیا کی تمام دولت بھی واپس نہیں لا سکتی۔ قرآنِ مجید نے مختلف اوقات کی قسمیں کھا کر انسان کو جھنجھوڑا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے ہر لمحے کو اللہ تعالیٰ کی رضا، نیکی، علم، عبادت، خدمتِ خلق اور اصلاحِ معاشرہ کے لیے وقف کرے، کیونکہ یہی لمحات کل روزِ قیامت انسان کے حق یا اس کے خلاف گواہی دیں گے۔
ان خیالات کا اظہار خطیب و امام مسجد تلنگانہ اسٹیٹ حج ہاؤز، نامپلی، حیدرآباد، صدر لینگویجز ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن، مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے آج اپنے خطاب میں کیا۔
انہوں نے کہا کہ اسلام نے وقت کی اہمیت کو جس انداز سے اجاگر کیا ہے، اس کی مثال دنیا کے کسی اور نظامِ حیات میں نہیں ملتی۔ اللہ تعالیٰ نے سورۂ عصر میں زمانے کی قسم کھاتے ہوئے واضح فرمایا کہ "بیشک انسان خسارے میں ہے، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے، نیک اعمال کیے، حق کی تلقین کی اور صبر کی نصیحت کی۔” اسی طرح سورۂ فجر، سورۂ ضحیٰ اور سورۂ لیل میں صبح، چاشت، رات اور دن کی قسمیں اس حقیقت کی شاہد ہیں کہ وقت اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت اور امانت ہے۔
مولانا نے کہا کہ رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ "دو نعمتیں ایسی ہیں جن میں اکثر لوگ خسارے میں رہتے ہیں: صحت اور فراغت۔” افسوس کہ آج انسان اپنی زندگی کے قیمتی اوقات کو فضول مشاغل، بے مقصد گفتگو، غیر ضروری تفریح، سوشل میڈیا کی لت اور دنیاوی غفلت میں ضائع کر رہا ہے، جبکہ یہی وقت اگر قرآنِ کریم کی تلاوت، ذکرِ الٰہی، علم کے حصول، والدین کی خدمت، بچوں کی دینی تربیت، معاشرے کی اصلاح اور مخلوقِ خدا کی خدمت میں صرف کیا جائے تو انسان دنیا و آخرت کی عظیم کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قیامت کے دن ہر انسان سے اس کی عمر، صحت، علم، مال اور جسم کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ ہر رات اپنے دن کا محاسبہ کرے اور ہر صبح اس عزم کے ساتھ اٹھے کہ آج کا دن گزشتہ دن سے زیادہ مفید اور بابرکت ہوگا۔
مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے کہا کہ ہمارے اسلاف، صحابۂ کرامؓ، تابعین، ائمہ، محدثین اور اولیائے کرام نے وقت کی ایسی حفاظت کی کہ ان کی زندگیاں رہتی دنیا تک امت کے لیے مشعلِ راہ بن گئیں۔ امام ابن جوزیؒ، امام فخرالدین رازیؒ، امام ابن ابی حاتمؒ اور دیگر اکابرین نے اپنی زندگیاں علم و عمل کے لیے وقف کر دیں، جس کے نتیجے میں آج بھی ان کے علمی آثار پوری امت کی رہنمائی کر رہے ہیں۔ یہ سب وقت کی صحیح قدر کا ثمرہ ہے۔
انہوں نے نوجوان نسل کو خصوصی مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ اگر یہی عمر علم، کردار سازی، عبادت، خدمتِ خلق اور مثبت سرگرمیوں میں گزرے تو پوری زندگی سنور جاتی ہے، لیکن اگر یہ وقت لہو و لعب، بے راہ روی اور فضولیات میں ضائع ہو جائے تو بعد کی ندامت کسی کام نہیں آتی۔ اس لیے نوجوان اپنے وقت کو اپنی سب سے بڑی دولت سمجھیں۔
مولانا نے والدین، اساتذہ اور سماجی رہنماؤں سے بھی اپیل کی کہ وہ نئی نسل میں وقت کی پابندی، مطالعہ کا شوق، عبادت کی عادت، نظم و ضبط اور مقصدِ حیات کا شعور پیدا کریں، کیونکہ قوموں کی ترقی کا راز صرف وسائل میں نہیں بلکہ وقت کے بہترین استعمال میں پوشیدہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مسلمان کی زندگی کا ہر لمحہ عبادت بن سکتا ہے، بشرطیکہ اس کی نیت اللہ تعالیٰ کی رضا ہو۔ اسلام ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ فراغت کے لمحات کو بھی خیر، بھلائی اور نفع بخش کاموں میں صرف کیا جائے، کیونکہ گزرنے والا ہر دن انسان کی عمر میں اضافہ نہیں بلکہ کمی کرتا ہے اور انسان کو اس کی آخری منزل کے قریب لے جاتا ہے۔
آخر میں مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں وقت کی حقیقی قدر و منزلت عطا فرمائے، ہماری زندگی کے ہر لمحے کو اپنی رضا، دینِ اسلام کی خدمت، انسانیت کی بھلائی اور آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بنائے، ہمیں غفلت، سستی اور وقت کے ضیاع سے محفوظ رکھے اور قرآن و سنت کے مطابق اپنی زندگیاں گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔



