آدھی رات کو شبیر علی کی انسانیت ، ہاسپٹل میں رکی میت خاندان کے حوالے کرائی

تلنگانہ حکومت کے مشیر محمد علی شبیر نے ایک بار پھر انسان دوستی کی مثال پیش کرتے ہوئے مشکل میں گھری ایک خاندان کی فوری مدد کی۔ کاماریڈی کی رہنے والی نور جہاں شیخ دل کی بیماری کے باعث حیدرآباد کے کیئر اسپتال میں زیر علاج تھیں، جہاں دورانِ علاج ان کا انتقال ہوگیا۔
علاج پر مجموعی طور پر 3.11 لاکھ روپے کا خرچ آیا، جس میں اہلِ خانہ پہلے ہی 1.80 لاکھ روپے ادا کرچکے تھے۔ اسپتال انتظامیہ نے بقیہ رقم کی ادائیگی تک میت حوالے کرنے سے انکار کردیا، جس پر جمعرات کی رات صمد کی قیادت میں متوفیہ کے اہلِ خانہ نے محمد علی شبیر سے ملاقات کرکے اپنی پریشانی بیان کی۔
معاملہ معلوم ہوتے ہی شبیر علی نے فوری طور پر کیئر اسپتال کے سی ای او ششی کانت سے فون پر بات کرتے ہوئے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بقایا بل مکمل طور پر معاف کرنے یا کم از کم نمایاں رعایت دینے کی درخواست کی۔
انہوں نے اپنی ذاتی جانب سے متوفیہ کے خاندان کو 50 ہزار روپے کی فوری مالی امداد بھی فراہم کی۔ اس کے علاوہ اپنے عملے کو فوراً اسپتال روانہ کرتے ہوئے ہدایت دی کہ انتظامیہ سے رابطہ قائم کرکے بغیر کسی تاخیر کے میت اہلِ خانہ کے حوالے کرانے کے اقدامات کیے جائیں۔
شبیر علی کی بروقت مداخلت اور ہمدردانہ رویے پر متوفیہ کے اہلِ خانہ نے ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آدھی رات کے وقت ان کی مدد کرکے شبیر علی نے ایک بار پھر انسانیت اور خدمتِ خلق کی اعلیٰ مثال قائم کی



