جنتر منتر پر نوجوانوں کا احتجاج ختم

نئی دہلی: نیٹ پرچہ لیک معاملے میں مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ پورا ہونے اور دیگر مطالبات بھی تسلیم کیے جانے کے بعد ایس جے پی نے اپنا احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد ایس جے پی کے رہنماؤں نے ایک بار پھر مرکزی حکومت کے ساتھ مذاکرات کیے۔ اس کے بعد مرکزی وزراء جے پی نڈا اور جتیندر سنگھ کے ساتھ ایس جے پی کے نمائندوں نے میڈیا سے بات چیت کی۔
انہوں نے بتایا کہ احتجاج کرنے والوں کے خلاف درج مقدمات واپس لینے کی درخواست حکومت سے کی گئی ہے۔ صرف دہلی ہی نہیں بلکہ ملک بھر میں درج تمام مقدمات واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
ان کے مطابق حکومت نے یقین دہانی کروائی ہے کہ چار دن کے اندر مقدمات واپس لے لیے جائیں گے اور آئندہ کسی کو مقدمات کے ذریعے ہراساں نہیں کیا جائے گا۔
حکومت نے یہ بھی اتفاق کیا ہے کہ نیٹ پرچہ لیک کے باعث خودکشی کرنے والے طلبہ کے خاندانوں کو معاوضہ دیا جائے گا اور تعلیمی نظام میں بنیادی اصلاحات کی جائیں گی۔
مرکزی وزیر جے پی نڈا نے کہا کہ احتجاج کرنے والوں کے خلاف درج مقدمات واپس لینے پر اتفاق ہو گیا ہے۔ دہلی اور بی جے پی کے زیرِ اقتدار ریاستوں میں درج مقدمات واپس لیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا "ہم پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ تعلیمی نظام اور امتحانی نظام میں بنیادی اصلاحات کی جائیں گی۔ مستقبل میں کسی کو مقدمات کے ذریعے پریشان نہیں کیا جائے گا اور خودکشی کرنے والے طلبہ کے خاندانوں کی ہر ممکن مدد کی جائے گی
۔”ان یقین دہانیوں کے بعد ایس جے پی کے نمائندوں نے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا اور تمام مظاہرین سے اپیل کی کہ وہ بحفاظت اپنے گھروں کو واپس جائیں۔



