نیشنل

بی جے پی اتحادی وزیر کی بیٹی بھی مرکزی حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئی

آسام میں ایک دلچسپ سیاسی صورتحال سامنے آئی ہے، جہاں ریاستی وزیرِ ریونیو کیشب مہنت کی بیٹی دیبیشا مہنت نے نیٹ امتحان کے تنازع پر طلبہ کے احتجاج میں شرکت کرکے سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی۔ احتجاج کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں۔

 

گوہاٹی کے چنچل علاقہ میں دیبیشا مہنت نے طلبہ کے ساتھ ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا کر مرکزی حکومت کے خلاف احتجاج کیا۔ انہوں نے نیٹ-یو جی امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں پر مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا اور مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے طلبہ کے ساتھ زوردار نعرے بھی لگائے۔ احتجاج کے دوران ان کی تقریر کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے۔

 

کیشب مہنت آسام گن پریشد (اے جی پی) کے سینئر رہنما ہیں اور 2016 سے بی جے پی کی قیادت والی آسام حکومت میں وزیر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

 

چونکہ اے جی پی، بی جے پی کی اتحادی جماعت ہے اور مرکز میں بھی اسی اتحاد کی حکومت ہے، اس لیے وزیر کی بیٹی کا مرکزی حکومت کے خلاف احتجاج میں شریک ہونا سیاسی حلقوں میں بحث کا موضوع بن گیا ہے۔

 

اس معاملہ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے آسام کے چیف منسٹر ہیمنت بسوا شرما نے کہا کہ حکومت طلبہ کے اظہارِ رائے کے حق کا احترام کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کے مطالبات کا احترام کیا جا رہا ہے اور نیٹ-یو جی معاملہ کا مرکزی حکومت جائزہ لے رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button