نیشنل

مسلم شخص بھی اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت پہلی شادی ہوتے ہوئے دوسری شادی نہیں کر سکتا: کرناٹک ہائی کورٹ

بنگلورو: کرناٹک ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اگر کسی مسلم شخص کی پہلی شادی برقرار ہو تو وہ اسپیشل میرج ایکٹ 1954 کے تحت دوسری شادی نہیں کر سکتا۔ ایسی شادی قانوناً باطل (Void) سمجھی جائے گی۔

 

جسٹس سچن شنکر مگاڈم نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگرچہ مسلم پرسنل لا مرد کو ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کی اجازت دیتا ہے، لیکن یہ اجازت صرف اس وقت تک ہے جب شادیاں مسلم پرسنل لا کے تحت کی جائیں۔ اگر کوئی شخص اپنی مرضی سے اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت شادی کرتا ہے تو پھر اس پر اسی قانون کی تمام شرائط لاگو ہوں گی، نہ کہ پرسنل لا کی۔

 

عدالت نے کہا کہ اسپیشل میرج ایکٹ کی دفعہ 4(اے) کے مطابق جب تک پہلی شادی قانونی طور پر ختم نہ ہو، دوسری شادی نہیں کی جا سکتی۔ ایسی صورت میں دوسری شادی باطل ہوگی اور فریقین کو شوہر اور بیوی کا قانونی درجہ حاصل نہیں ہوگا۔

 

یہ فیصلہ ایک خاتون کی درخواست پر سنایا گیا، جس نے 2008 میں ایک مسلم شخص سے اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت شادی کی تھی۔ ان کی ایک بیٹی بھی ہے۔ مذکورہ شخص کا 2024 میں انتقال ہوگیا، جس کے بعد خاتون نے جائیداد کی تقسیم کے مقدمے میں خود کو قانونی وارث تسلیم کرنے کی درخواست دی۔

 

ٹرائل کورٹ نے خاتون کو قانونی بیوی ماننے سے انکار کرتے ہوئے مقدمے میں فریق بنانے کی درخواست مسترد کر دی تھی، تاہم ان کی بیٹی کو متوفی کی قانونی وارث مانتے ہوئے مقدمے میں شامل کر لیا گیا تھا۔

 

ہائی کورٹ نے 15 جولائی کے اپنے فیصلے میں ٹرائل کورٹ کے حکم کو برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ چونکہ مرد کی پہلی شادی بدستور برقرار تھی، اس لیے اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت کی گئی دوسری شادی باطل تھی، لہٰذا خاتون کو قانونی بیوی کا درجہ نہیں دیا جا سکتا۔

 

البتہ عدالت نے واضح کیا کہ باطل شادی سے پیدا ہونے والے بچوں کو قانون تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اسی بنیاد پر بیٹی کو متوفی کی قانونی وارث قرار دیتے ہوئے جائیداد کے مقدمے میں فریق رہنے کا حق برقرار رکھا گیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button