نیشنل

مغربی بنگال میں بھی مسجد مندر سیاست۔ 650 سال قدیم مسجد کے باہر پوجا ،مندر کا دعویٰ شیو لنگ نصب کرنے کی تیاری

کولکتہ: مغربی بنگال میں مندر-مسجد تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایک رہنما کی قیادت میں ایک دائیں بازو کے گروپ نے ضلع مالدہ میں واقع تقریباً 650 سال پرانی آدینہ مسجد کے قریب پوجا کی۔

 

اس گروپ کا دعویٰ ہے کہ یہ مقام پہلے ایک مندر تھا۔ تنظیم "آدیناتھ پراتن شیو مندر” نے آئندہ پیر کے روز مسجد کے باہر ایک بڑا شیو لنگ نصب کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔مالدہ کے پانڈوا علاقے میں واقع آدینہ مسجد کی تعمیر سلطان سکندر شاہ نے سن 1373ء میں کروائی تھی۔

 

آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے مطابق یہ قرونِ وسطیٰ کے برصغیر کی سب سے بڑی مسجد ہے۔ تاہم ہندو گروپوں اور بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ یہ مسجد بھگوان شیو کے نام سے منسوب "آدیناتھ مندر” کی جگہ پر تعمیر کی گئی تھی۔تنظیم کے چیف سرپرست اور شمالی بنگال کے لیے بی جے پی کے "سوشاسن ونگ” کی کنوینر کاجل گوسوامی نے کہا "اس نام نہاد مسجد میں ہندو اور بدھ مت سے متعلق مجسمے موجود ہیں۔

 

آدیناتھ مندر کو منہدم کرکے ہی یہاں مسجد تعمیر کی گئی تھی۔”تنظیم کا دعویٰ ہے کہ مسجد میں شیو لنگ کے علاوہ کئی ہندو اور بدھ مت کی علامتیں بھی موجود ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ جلد ہی آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کی رپورٹ طلب کرنے کے لیے کلکتہ ہائی کورٹ سے رجوع کریں گے۔کاجل گوسوامی نے کہا

 

"ہمارا مقصد مندر کو بحال کرنا اور اس کے اندر شیو لنگ نصب کرنا ہے۔”مسجد کے قریب نصب کیے جانے والے شیو لنگ کو تقریباً 289 کلومیٹر دور تارکیشور سے لایا جا رہا ہے۔ اس کی اونچائی 3.6 فٹ اور وزن تقریباً 1.5 ٹن بتایا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا "ہم قانون کی مکمل پابندی کریں گے۔ ہم کسی بھی قسم کی امن و امان کی خرابی نہیں چاہتے۔

 

ہم پہلے ہی اے ایس آئی اور پولیس حکام سے ملاقات کر چکے ہیں اور انہوں نے ہمیں مسجد کے احاطے سے باہر پوجا کرنے کی اجازت دی ہے۔”

 

دوسری جانب اے ایس آئی کے ایک سینئر افسر نے مسجد کو ایک تاریخی یادگار قرار دیتے ہوئے بتایا کہ ان کے نمائندوں نے نماز کے منتظمین سے بھی ملاقات کی ہے۔انہوں نے کہا "تاریخی یادگار کے اندر کسی بھی قسم کی سرگرمی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

 

پولیس کی اضافی فورس تعینات کر دی گئی ہے اور ہم اپنے عملے کی تعداد بھی بڑھا رہے ہیں۔”فی الحال مسجد کے اندر نماز ادا نہیں کی جا رہی۔حال ہی میں مالدہ ضلع پولیس نے ایک ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے کہا کہ انہیں سوشل میڈیا پر ایسی پوسٹس ملی ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کچھ لوگ آدینہ یادگار پر جا کر پوجا اور دیگر مذہبی رسومات ادا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

 

پولیس نے عوام کو آگاہ کیا کہ آدینہ یادگار آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے تحت قومی اہمیت کی حامل ایک محفوظ تاریخی یادگار ہے اور قدیم یادگاروں اور آثارِ قدیمہ کے مقامات و باقیات ایکٹ، 1958کے تحت اس کے محفوظ احاطے میں کسی بھی قسم کی مذہبی رسومات یا دیگر غیر مجاز سرگرمیوں کی اجازت نہیں ہے۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button