نیشنل

اعظم خان کی جوہر یونیورسٹی کو بڑی راحت – انہدامی کارروائی پر عارضی روک

اتر پردیش کے مرادآباد کمشنر نے پیر کو رام پور میں واقع محمد علی جوہر یونیورسٹی کے خلاف جاری انہدامی کارروائی پر عبوری روک لگا دی، جس سے سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈر اعظم خان کی قائم کردہ یونیورسٹی کو بڑی راحت ملی ہے

 

مرادآباد ڈویژنل کمشنر کی عدالت نے محمد علی جوہر یونیورسٹی کے انہدامی حکم پر عبوری روک لگا دی ہے۔ عدالت نے اپیل کی ابتدائی سماعت (ایڈمیشن مرحلہ) تک رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (آر ڈی اے) کو کسی بھی قسم کی انہدامی کارروائی سے روک دیا ہے۔

 

ضلع سرکاری وکیل دنیش چوہان نے بتایا کہ یونیورسٹی کے وکیل نے درخواست دی تھی کہ ایک وکیل کے انتقال کے باعث 28 جولائی کو مقررہ سماعت متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ خدشہ تھا کہ آر ڈی اے اس سے پہلے کسی بھی وقت انہدامی کارروائی کر سکتی ہے، جس سے اپیل کا مقصد ہی ختم ہو جاتا۔

 

انہوں نے کہا کہ طلبہ کے مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت نے نرم رویہ اختیار کیا اور اپیل کی ابتدائی سماعت تک انہدامی کارروائی پر روک لگا دی۔ تاہم عدالت نے واضح کیا کہ یہ کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہے۔

 

دنیش چوہان کے مطابق اپیل کی سماعت کے دوران یونیورسٹی، آر ڈی اے اور ریاستی حکومت کے تمام دلائل اور شواہد کا جائزہ لیا جائے گا، جس کے بعد عدالت اپنا حتمی فیصلہ سنائے گی۔

 

واضح رہے کہ تقریباً دو ہفتے قبل رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (آر ڈی اے) نے الزام عائد کیا تھا کہ یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتیں منظور شدہ نقشے کے بغیر تعمیر کی گئی ہیں، جس کے بعد 15 جولائی کو ان عمارتوں کو منہدم کرنے کا حکم جاری کیا گیا تھا۔

 

یہ کارروائی علاقائی جونیئر انجینئر کی رپورٹ کی بنیاد پر کی گئی، جس میں یونیورسٹی کیمپس میں مبینہ غیر مجاز تعمیرات کی نشاندہی کی گئی تھی۔

 

جوہر یونیورسٹی انہدام معاملہ سیاسی رنگ اختیار کر گیا، اکھلیش یادو کی بی جے پی پر تنقید

 

رام پور میں محمد علی جوہر یونیورسٹی کے خلاف انہدامی کارروائی کا معاملہ اتر پردیش اسمبلی انتخابات سے قبل سیاسی تنازع اختیار کر گیا ہے۔

 

سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے بی جے پی حکومت پر سیاسی انتقام کے تحت یونیورسٹی کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بہانے بنانے کے بجائے اس "تعلیم کے مندر” کو محفوظ رکھے۔ انہوں نے کہا کہ تعصب ناانصافی کی سب سے واضح شکل ہے۔

 

گزشتہ ہفتے اتر پردیش اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف ماتا پرساد پانڈے کی قیادت میں سماجوادی پارٹی کے ایک وفد نے رام پور کے ضلع مجسٹریٹ اجے کمار دویدی سے ملاقات کی اور انہدامی کارروائی روکنے کا مطالبہ کیا۔ وفد نے اس سلسلے میں پارٹی کے 45 ارکانِ اسمبلی کے دستخطوں پر مشتمل ایک یادداشت بھی پیش کی۔

 

محمد علی جوہر یونیورسٹی، جو رام پور ریلوے اسٹیشن سے تقریباً 12 کلومیٹر دور واقع ہے، 2006 میں سماجوادی پارٹی کے سینئر رہنما اعظم خان نے قائم کی تھی۔ گزشتہ چند برسوں سے یونیورسٹی زمین اور تعمیرات سے متعلق متعدد قانونی اور انتظامی معاملات کے باعث خبروں میں رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button