نیشنل

احتجاجی طلباء پر AK-47 سے فائرنگ۔ بہار میں پولیس کانسٹیبل معطل

نئی دہلی: طلبہ کے احتجاجی مظاہرے کے دوران AK-47 سے فائرنگ کرنے والے ایک پولیس کانسٹیبل کے خلاف بہار پولیس نے کارروائی کی ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہونے کے بعد جس میں کانسٹیبل طلبہ کی جانب ہتھیار تان کر فائرنگ کرتا ہوا دکھائی دے رہا ہے اعلیٰ حکام نے اسے معطل کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔

 

تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں جاری طلبہ کی احتجاجی تحریک کے سلسلے میں بہار میں منعقدہ احتجاج کے دوران شدید کشیدگی پیدا ہوگئی۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کی کارروائی کے دوران ڈیوٹی پر موجود ایک پولیس کانسٹیبل نے اپنی AK-47 رائفل سے طلبہ کی جانب فائرنگ کر دی۔

 

موقع پر موجود بعض افراد نے اس واقعے کی ویڈیوز اپنے موبائل فونز سے ریکارڈ کرکے سوشل میڈیا پر شیئر کر دیں، جس کے بعد یہ معاملہ بڑے پیمانے پر زیرِ بحث آ گیا۔اس واقعے پر بہار کے اپوزیشن اختلاف تیجسوی یادو نے سخت ردِعمل ظاہر کیا۔

 

انہوں نے کانسٹیبل کی فائرنگ کی ویڈیو ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر شیئر کرتے ہوئے پُرامن احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف جدید اسلحہ استعمال کرنے کی شدید مذمت کی۔اس کے علاوہ مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندوں اور طلبہ تنظیموں نے بھی پولیس کے رویّے پر سخت تنقید کی۔

 

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے پُرامن مذاکرات کی یقین دہانیوں کے برعکس، احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف پولیس نے بلا امتیاز طاقت کا استعمال کیا۔

 

کانگریس کے سینئر قائد راہل گاندھی نے الزام عائد کیا ہے کہ بہار میں طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس نے مظاہرین پر AK-47 رائفلوں سے فائرنگ کی۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ دہلی میں طلبہ کے خلاف پیلیٹ گنز کا استعمال کیا گیا۔

 

راہل گاندھی نے مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومت اپنے وعدے پورے نہیں کرتی بلکہ طلبہ کی آواز دبانے کے لیے جھوٹے وعدے کرتی ہے۔سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کی بنیاد پر اعلیٰ حکام نے واقعے کی جامع تحقیقات

 

کا حکم دیا اور ذمہ دار پولیس کانسٹیبل کے خلاف تادیبی کارروائی کرتے ہوئے اسے معطل کر دیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button