گاڑی سے پولیس ملازمین کو ٹکر دینے کا واقعہ۔ حیدرآباد پولیس نے ملزم کو گرفتار کرلیا

حیدرآباد: حیدرآباد سٹی پولیس کے کمشنر کی ہدایت پر حیدرآباد نارکوٹکس انفورسمنٹ ونگ نے حسینی عالم پولیس کے ساتھ مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے ایک مقامی منشیات فروش اور اس کے ساتھیوں کو کو گرفتارکرلیا۔
کارروائی کے دوران پولیس نے 120 گرام او جی ، 5 گرام کوکین، 27 ایل ایس ڈی بلاٹس، دو موبائل فون اور ایک ماروتی سوزوکی ضبط کی جن کی مجموعی مالیت تقریباً 13 لاکھ 24 ہزار 500 روپے بتائی گئی ہے۔گرفتار ہونے والے مقامی منشیات فروش کی شناخت 31 سالہ محمد سیف ولد محمد شریف کے طور پر ہوئی ہے
جو چارمینار کے بابری الاوہ کا رہنے والا اور پیشے سے ڈرائیور ہے جبکہ دوسرا ملزم 25 سالہ سمیر بابو بھائی واگھیلاہے جو ممبئی کے کرلا ویسٹ کے بیل بازار علاقے کا رہنے والا اور بے روزگار بتایا گیا ہے۔ تیسرا ملزم آدیتیہ بتایا گیا ہے۔پولیس کے مطابق تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ محمد سیف اپنے والدین اور اہلیہ کے ساتھ حیدرآباد میں رہتا ہے
اور مبینہ طور پر منشیات کی خرید و فروخت کے ذریعے پرتعیش زندگی گزار رہا تھا۔ وہ خود بھی شراب اور مختلف نشہ آور اشیاء، جن میں او جی، کوکین اور ایل ایس ڈی شامل ہیں کااستعمال کرتا تھا۔تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ محمد سیف ممبئی کے آدتیہ نامی شخص سے او جی، کوکین اور ایل ایس ڈی بلاٹس حاصل کرتا تھا۔
یہ منشیات مبینہ طور پر سمیر بابو بھائی واگھیلا کے ذریعے حیدرآباد پہنچائی جاتی تھیں۔ منشیات وصول کرنے کے بعد محمد سیف انہیں اپنے مقامی نیٹ ورک کے ذریعے شہر کے مختلف صارفین کو فروخت کرتا تھا۔پولیس کے مطابق محمد سیف کے خلاف پہلے بھی دو مقدمات درج ہیں۔
ان میں ایک مقدمہ عابڈس پولیس اسٹیشن اور دوسرا افضل گنج پولیس اسٹیشن میں درج ہے جن کی تحقیقات جاری ہیں واضح رہے کہ پولیس کی جانب سے پکڑ لئے جانے پر بچنے کی کوشش میں اس نے کار سے دو پولیس کانسٹبلز اور ایک انسپکٹر کو ٹکر دے دی تھی جس کے نتیجہ میں وہ زخمی ہوگئے تھے۔
دوسرے گرفتار ملزم سمیر بابو بھائی واگھیلا کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ممبئی سے منشیات کی منتقلی میں درمیانی کردار ادا کرتا تھا۔پولیس کے مطابق 30 جولائی 2026 کو باوثوق ذرائع کی اطلاع ملنے پر حیدرآباد نارکوٹک ونگ اور حسینی عالم پولیس نے مشترکہ خصوصی آپریشن کیا۔
اس دوران حسینی علم پولیس اسٹیشن کی حدود میں خلوت کے مرغی چوک کے قریب سمیر بابو بھائی واگھیلا کو گرفتار کیا گیا جبکہ کارروائی کے دوران مقامی منشیات فروش محمد سیف کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ بھی معلوم ہوا کہ محمد سیف ممبئی سے منشیات منگوا کر حیدرآباد میں اپنے رابطوں کے ذریعے مہنگے داموں فروخت کرتا تھا
تاکہ غیر قانونی منافع کما سکے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں ملزمین موبائل فون کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے تھے اور اسی ذریعے خرید و فروخت کا پورا نیٹ ورک چلاتے تھے۔حیدرآباد سٹی پولیس نے کہا ہے کہ شہر اور ملک کے دیگر علاقوں میں منشیات کی سپلائی کرنے والے نیٹ ورک کے خلاف کارروائیاں مسلسل جاری رہیں گی۔



