جرائم و حادثات

منگنی توڑ دینے پر 3 کروڑ کا مطالبہ ، جان سے مارنے کی دھمکی۔ حیدرآباد کی لڑکی کے خلاف کیس درج

تروپتی: حیدرآباد سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کے خلاف مبینہ طور پر منگنی ٹوٹنے کے معاملے کو ختم کرنے کے لیے 3 کروڑ روپے کا مطالبہ کرنے اور نوجوان اور اس کے ارکان خاندان کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

 

آندھراپردیش کے تروپتی ایسٹ کے سرکل انسپکٹر سرینواسولو نے بتایا کہ شکایت کنندہ ومشی چنئی کے ایک خانگی ہاسپٹل میں ملازم بتایا گیا ہے اس کی ملاقات حیدرآباد کے ونستھلی پورم کی رہنے والی نمرتا سے ایک ڈیٹنگ ایپ کے ذریعے ہوئی تھی وہ بھی خانگی ملازمہ بتائی گئی ہے۔

 

دونوں کے درمیان قریبی تعلقات قائم ہوگئے اور تقریباً ایک سال قبل دونوں خاندانوں کی رضامندی سے ان کی منگنی ہوگئی۔ ومشی نے اپنی شکایت میں الزام عائد کیا کہ منگنی کے بعد نمرتا بار بار اس پر اپنے اثاثے اور رقم اس کے نام منتقل کرنے کے لیے دباؤ ڈالتی رہی۔ومشی نے کہا کہ اسے خدشہ تھا کہ شادی کے بعد صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے اس لیے اس نے خاندان کے بزرگوں سے مشورے کے بعد منگنی توڑ دی۔

 

منگنی ٹوٹنے کے بعد نمرتا نے 2025 میں اس کے خلاف دھوکہ دہی کا مقدمہ درج کروایا اور الزام لگایا کہ اس نے شادی کے نام اسے دھوکہ دیا ہے۔ومشی کا الزام ہے کہ منگنی ٹوٹ جانے کے باوجود نمرتا فون پر مسلسل اسے دھمکیاں دیتی اور ہراساں کرتی رہی بالآخر اس نے نمرتا کا نمبر بلاک کردیا جس کے بعد مبینہ طور پر وہ اسے ای میلس بھیج کر منگنی ٹوٹنے کے معاملے کو ختم کرنے کے لیے

 

3 کروڑ روپے کا مطالبہ کررہی تھی۔ومشی کی شکایت کی بنیاد پر پولیس نے مقدمہ درج کرلیا ہے اور معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button