ٹوٹتے، بکھرتے رشتے – مسلم خاندانون کا مسئلہ

کے این واصف
اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں کہ ہندوستان میں مسلم کمیونٹی سب سے زیادہ پسماندگی کا شکار ہے۔ خصوصاً معاشی و تعلیمی سطح پر۔ ان کے پاس وسائل کمی اور مسائل کی بھرمار ہے۔ اس حقیقت پر سن 2006ء میں “سچّر کمیٹی” نے بھی اپنی مہر ثبت کردی تھی۔ ہمارے سماج میں اکثریت کا بھی یہی ماننا ہے کہ مسلم کمیونٹی میں مسائل کی زیادتی اور وسائل کی بڑی وجہ تعلیم کی کمی ہے۔ اس کی بنیاد بھی سچّر کمیٹی کی رپورٹ ہی ہے۔ مسلم مسائل کے انبار میں پچھلے کچھ برسوں ایک نیا اور تشویشناک مسئلے کا اضافہ ہواہے۔ وہ ہے خاندانون کا بکھرنا، رشتون کا ٹوٹنا یعنی خلع و طلاق کے واقعات میں اضافہ ہونا۔ یہ تو ہوا ملکی سطح کا منظرنامہ۔
یہاں ہم اپنی بات کو شہر حیدرآباد تک محدود کرکے گفتگو کو آگے بڑھاتے ہیں۔ سچّر کمیٹی کی اجراء کے بعد مجموعی طور پر ملک کے مسلمانون میں پچھلی دو، تین دہائیوں میں تعلیم سطح پر بہت زیادہ ترقی نہیں تو کچھ نمایاں بدلاؤ ضرور آیا ہے۔ گریجویشن تک کی تعلیم کے علاوہ پروفیشنل کورسس جیسے میڈیکل، فارماسی، شعبہ طب سے جڑے دیگر ڈگری اور ڈپلوماز، شعبہ انجنیئرنگ کے بیسیوں ڈگری اور ڈپلوما کورسس یا بزنس منیجمنٹ وغیرہ جیسے کورسس میں خاصی تعداد مسلم طلبہ کی دیکھی جارہی ہے۔ شہر میں اعلٰی تعلیم حاصل کرنے والےمسلم طلبہ کے عداد و شمار پر غور کرین تو تعلیم کے ہر شعبہ میں مسلمان لڑکیون کی تعداد لڑکون سے زیادہ نظر آئے گی۔ جبکہ آبادی میں ان کا تقریباً برابر کا ہے۔ اگر ہم صرف تعلیمی میدان میں بڑی تعداد کو مدِ نظر رکھین تو ہم اپنے آپ کو کسی حد تک مطمئن کر سکتے ہیں کہ مسلمانون میں مجموعی طور تعلیم اور اعلٰی تعلیم کے گراف اونچا ہواہے۔ لیکن حصولِ علم میں لڑکے، لڑکیوں کے بیچ توازن برقرار نہیں رہا۔
صفحہ ۲
تعلیمی میدان میں لڑکیون کے مقابلے لڑکون کا پیچھے رہ جانے کی بڑی وجہ لڑکون میں سہل پسندی یا short cut راستہ اپنانے کی عادت کا عام ہونا ہے۔ دوسرے شیطانی چرخہ یعنی موبائل فون پر وقت برباد کرنا، ریلیز بنانے کا جنون وغیرہ۔
لڑکیاں بیچلرز اور ماسٹرز کی پروفیشنل ڈگریاں حاصل کررہی ہیں۔ اور اپنی قابلیت کی بناء پر اکثر اچھی ملازمت بھی حاصل کررہی ہیں۔ اس ایک اچھے بدلاؤ کے ساتھ ایک منفی چیز بھی ان کے اندر پنپ رہی ہے۔ وہ ان میں خود کفیل ہوجانے کا اطمینان پیدا کررہاہے اس سے ان کے اندر حد درجہ کی خود اعتمادی کا جذبہ پروان چڑھ رہا ہے۔ جس سے اکثر کیسس میں ان میں خوش اخلاقی، عطاعت و انکسار کا جذبہ کم ہو رہا ہے اور خود سری پیدا ہو رہی ہے۔ جس کے نتیجہ میں ان کی نجی زندگی میں مسائل کھڑے ہو رہے ہیں۔
دوسری جانب مسلمان لڑکون میں بے روزگاری ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔ ویسے بے روزگاری اب بلا لحاظ مذہب و ملّت یہ ایک ملک گیر مسئلہ بھی ہوگیا ہے۔ لیکن مسلمانون کے ساتھ تعصب کا برتاؤ اور دوسرے ملازمت کے حصول کی مسابقت کا سامنا کرنے میں مسلم لڑکوں کا کمزور پڑنا بھی ہمارے نوجوانون میں بے روزگاری کا سبب ہے۔
پچھلے پچاس سال سے زائد عرصہ یعنی جب سے خلیجی ممالک پیٹرول کی دولت سے مالا مال ہوئے تو کئی غریب اور ترقی پذیر ممالک کے متلاشیاں روزگار نے خلیجی ممالک کا رخ کرنا شروع کیا جس میں ہندوستان اور خصوصاً حیدرآبادیوں نے بڑی تعداد میں گلف ممالک کو کوچ کرنا شروع ہوئے۔ جن میں تعلیم یافتہ، کم پڑھے لکھے، ہنرمند اور غیر ہنرمند سب شامل تھے۔ ہندوستانیون کی اس نقلِ مکانی نے نہ صرف ذاتی طور پر ان کے لیے روزگار کا مسئلہ حل کیا بلکہ ملک کے لئے بھی معاشی طور پر سود مند ثابت ہوئی۔ لیکن اب یہودی لابی کی مسلم دشمنی کے منصوبون تحت خلیجی ممالک کو نقصان پہنچانے ان کی معیشت تباہ کرنے کے لیے مشرقِ وسطٰی پر جنگ مسلط کی کردی گئی ہے۔ اس کے منفی اثرات مشرقِ وسطٰی کے علاوہ دنیا کے کئی ممالک پر پڑرہے ہیں جس کا بڑا اثر ہندوستان کی معیشت پر بھی پڑے رہاہے۔ کیونکہ نصف صدی سے ہندوستانی تارکین وطن جو اپنی کمائی کا بڑا حصہ اپنے وطن منتقل کرتے ہیں جو ملک کی معیشت کو استحکام بخشے ہوئے ہے۔ اگر وہ ممالک جن کی معیشت کا انحصار خلیجی ممالک کی خوشحالی پر منحصر ہے تماشہ بین بنے رہیں تو ان کا حال بھی “ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے” والا ہوگا۔
اس طرح اب وقت آگیا ہے کہ ہندوستانی متلاشیاںِ روزگار خصوصاً حیدرآبادی نوجوان نئی منزلوں کی تلاش کریں جس کے لئے انھیں اپنے آپ کو سخت مسابقت کا سامنا کرنے کا اہل بنانا ہوگا۔
صفحہ ۳
آئیے اب آخر میں اس تحریر کے بنیادی مقصد پر چند سطور کے ساتھ گفتگو کو ختم کرتے ہیں۔ یعنی خاندانون کا بکھرنا، ازدواجی رشتون میں دراڑیں پڑنا اور خلع/ طلاق پر اس کا اختتام ہونا وغیرہ۔
نکاح کو آسان بنانے اور شادی کی تقاریب پر بے دریغ پیسہ خرچ کرنے کے رواج کو ختم کرنے کے عمل پر حیدرآباد میں کچھ سماجی تنظیمین پوری شدت و محنت کے ساتھ کام کررہی ہیں۔ کیونکہ بے جا سومات پر پیسہ خرچ کرنے کے رواج سے غریب اور متوسط گھرانوں کے لڑکیون کی شادی ایک مسئلہ بن گیا ہے۔ لیکن سماجی تنظیمون کی اس سلسلہ میں کی جانے والی کاوشین کا اثر ہوتو رہا ہے مگر خاطر خواہ نہیں ہے۔ کیونکہ ہمارا سماج بے جا رسم و رواج کے ایک آہنی جال میں پھنسا ہوا ہے جس سے سماج کو آزاد کرنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔
اکثر صورتوں میں والدین اپنی لڑکی کی شادی کرنے میں معاشی طور پر ٹوٹ جاتے ہیں۔ اس المناک صورتحال سے بچانے اور شادی کی رسم یا نکاح کو آسان بنانے پر ہماری دردمند سماجی تنظیمین اپنی ساری توانائیاں جھونک رہی ہیں ان کی کاوشوں کو سلام۔ اس کے ساتھ ہی اب یہ کوشش بھی ضروری ہے کہ خاندانون کے بکھرنے اور ازدواجی رشتون کو ٹوٹنے سے بچایا جائے۔ اس کام کی ذمہ داری چاہیں تو سماجی تنظیمین بھی لے سکتی ہیں۔ مگر زندگیوں کے اثاثے لگاکر کی گئی شادی کے اٹوٹ رشتہ کو بحسنِ خوبی قائم رکھنے اور اللہ کی نظر میں ناپسند خلع/طلاق جیسے عمل سے بچانے کے اقدام کے کئے خود والدین اپنے بچون کی ابتداء سے ذہنی تربیت کریں، ان کے ذہنوں میں بات بٹھائیں کہ رشتون کا نبھانا ہمارا اخلاقی اور دینی فریضہ ہے۔ کیونکہ اس سے ملّت میں سماجی اور نفسیاتی مسائل جنم لے رہے ہیں۔ بے دینی اور بےراہ روی کے راستے کھل رہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔xxx۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


