نیشنل

باپ کی قبر کے پہلو میں بیٹے کی قبر – عتیق احمد کے تینوں بیٹوں نے ابان کو سپردِ خاک کیا – جلوس جنازہ میں ہزاروں افراد کی شرکت؛ تدفین کے بعد علی اور عمر جیل منتقل

 

اتر پردیش کے پریاگ راج میں عتیق احمد کے 21 سالہ بیٹے ابان احمد کو ہفتہ کی شام 7 بجے کساری مساری قبرستان میں والد کی قبر کے برابر سپردِ خاک کردیا گیا۔ جنازے میں 5 سے 6 ہزار افراد کی شرکت کی اطلاع ہے۔ ابان کو اس کے تینوں بھائیوں علی، عمر اور احزم نے کندھا دیا۔ سکیورٹی کے لیے قبرستان کے اطراف ایک ہزار سے زائد پولیس جوان تعینات کئے گئے تھے۔

 

ابان کی میت لے کر اس کا بھائی احضم احمد روتے ہوئے قبرستان پہنچا تو بڑی تعداد میں لوگ اس کے پیچھے اندر جانے کی کوشش کرنے لگے۔ پولیس نے بھیڑ کو روکنے کی کوشش کی، لیکن ہجوم نے بیریکیڈنگ توڑ دی۔ صورتحال قابو سے باہر ہونے پر ایک پولیس جوانوں نے 2 سے 3 افراد کو بندوق کے بٹ سے مارا، جبکہ کچھ نوجوانوں کو پولیس نے تھپڑ مار کر پیچھے ہٹایا۔ بعد میں پولیس نے بھیڑ کو قبرستان سے باہر نکال دیا۔

 

ابان کی والدہ شائستہ پروین جنازے میں شریک نہیں ہوئیں۔ وہ اپنے شوہر عتیق احمد اور بیٹے اسد کے جنازے میں بھی شریک نہیں ہوئی تھیں۔ شائستہ 2023 سے فرار ہیں۔ ابان کی جمعرات کو جھانسی میں سڑک حادثے میں موت ہوئی تھی۔

 

جس قبرستان میں ابان کو دفن کیا گیا، وہیں اس کے دادا فیروز احمد، چچا اشرف اور بھائی اسد کی قبریں بھی موجود ہیں۔

 

الٰہ آباد ہائی کورٹ سے پیرول ملنے کے بعد ابان کے بھائی علی کو جھانسی جیل اور عمر کو لکھنؤ جیل سے پریا راج لایا گیا۔ پولیس نے دونوں کو سخت سکیورٹی میں پولیس وین کے ذریعہ پہنچایا۔ ویان پر پردے لگائے گئے تھے تاکہ ان کے چہرے نظر نہ آئیں۔ پریا راج پہنچنے کے بعد دونوں بھائی ایک دوسرے سے گلے ملے، مسجد میں نماز جنازہ ادا کی اور پھر ابان کی تدفین  کا عمل مکمل کیا

 

پولیس نے قبرستان میں صرف خاندان اور قریبی رشتہ داروں کو جانے کی اجازت دی۔ علی اور عمر نے بھی خاندان کے افراد سے ملاقات کی۔ عدالت نے پیرول کے دوران انہیں صرف اپنے بھائی احضم اور پھوپھی سے ملاقات کی اجازت دی تھی۔ پولیس نے مسجد کے باہر خیمہ لگا کر ملاقات کا انتظام کیا۔ تقریباً ایک گھنٹے کی ملاقات کے بعد پولیس علی کو واپس جھانسی اور عمر کو لکھنؤ جیل لے گئی۔ دونوں کو تقریباً چار سال بعد پہلی مرتبہ پیرول ملی تھی۔

 

ابان کی جمعرات کی صبح جھانسی میں سڑک حادثے میں موت ہوئی تھی۔ وہ پریا راج سے جھانسی جیل میں بند اپنے بھائی علی سے ملاقات کے لیے جا رہا تھا۔ کریٹا کار میں اس کے چار دوست بھی سوار تھے۔ صبح تقریباً ساڑھے 10 بجے ہائی وے پر ایک جانور کو بچانے کی کوشش کے دوران کار ڈیوائیڈر سے ٹکرا گئی۔ حادثے میں ابان اور اس کے دوست سونو کی موت ہوگئی، جبکہ تین دیگر افراد زخمی ہوئے۔

 

ابان اور سونو کی نعشیں جمعہ کی صبح تقریباً 4 بجے ایک ہی ایمبولینس کے ذریعہ جھانسی سے پریا راج کے ہٹوا گاؤں لائی گئیں۔ ابان اپنی پھوپھی کے گھر میں رہتا تھا، کیونکہ عتیق احمد کا گھر منہدم کئے جانے کے بعد اس کے پاس رہنے کے لیے وہی جگہ رہ گئی تھی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button