Uncategorized

جھگڑے کے دوران خاتون نے ایک شخص کو "دہشت گرد” کہا۔ حیدرآباد میں واقعہ

حیدرآباد: ایک شخص نے الزام عائد کیا ہے کہ اتوار 26 جولائی کی شام حیدرآباد کے عطا پور پولیس اسٹیشن کے حدود میں پارکنگ کے تنازع کے دوران ایک خاتون نے اسے "دہشت گرد” کہا۔ یہ واقعہ منترہ مال کے پارکنگ ایریا میں پیش آیا جہاں متاثرہ شخص اپنی گاڑی ریورس کرتے ہوئے غلطی سے قریب کھڑی ایک دوسری گاڑی سے ٹکرا گیا۔ انسٹاگرام پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں وہ خاتون کے ڈرائیور سے یہ کہتے ہوئے نظر آتا ہے کہ وہ گاڑی کو پہنچنے والے نقصان کا پورا خرچ ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔اس شخص کا الزام ہے کہ اسی دوران خاتون نے اسے "مسلم دہشت گرد” کہا جس پر اس کی ڈرائیور سے تلخ کلامی ہوگئی۔ ویڈیو میں وہ کہتے ہوئے سنائی دیتا ہے "وہ مجھے دہشت گرد کیسے کہہ سکتی ہے؟ میں نقصان کا معاوضہ دینے کے لیے تیار ہوں پھر وہ ایسا کیوں کہہ رہی ہے؟”تاہم خاتون کے ڈرائیور نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے ہندی میں کہا کہ کسی نے بھی اسے دہشت گرد نہیں کہا اور اس سے صرف گاڑی کے نقصان کی رقم ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔عطا پور پولیس نے اس بات کی تردید کی کہ اس شخص کو دہشت گرد کہا گیا تھا اور بتایا کہ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔پولیس نے بتایا کہ "رات تقریباً 10 بجے ہمیں اس واقعے سے متعلق شکایت موصول ہوئی جس کے بعد تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ ویڈیو میں متعلقہ شخص یہ الزام لگا رہا ہے کہ اسے دہشت گرد کہا گیا لیکن خاتون کی آواز واضح طور پر سنائی نہیں دیتی۔”پولیس نے مزید بتایا کہ ابھی تک اس معاملے میں کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا اور جاری تحقیقات کی وجہ سے شکایت کنندہ کی شناخت ظاہر نہیں کی جا سکتی۔اسی دوران یہ ویڈیو سوشل میڈیا سے ہٹا دئیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button