نیشنل

چیف جسٹس کے ہاتھوں ڈگری لینے سے حیدرآباد کی نلسار یونیورسٹی کے طلباء کا انکار، ممبئی کالج کانوکیشن ملتوی۔ حیدرآباد کی تقریب پر تجسس

نئی دہلی/حیدرآباد: ملک کے چیف جسٹس جسٹس سوریہ کانت کو ایک باوقار قانونی یونیورسٹی کی کانووکیشن تقریب میں مہمانِ خصوصی کے طور پر مدعو کیے جانے کی تجویز پر طلبہ میں ناراضی سامنے آئی ہے۔

 

حیدرآباد کی نیشنل اکیڈمی آف لیگل اسٹڈیز اینڈ ریسرچ کے آخری سال کے طلبہ کے ایک گروپ نے یونیورسٹی انتظامیہ سے اس فیصلے پر نظرثانی کرنے کی اپیل کی ہے۔تقریباً 450 طلبہ نے دستخط کرتے ہوئے یونیورسٹی انتظامیہ کو اپنی درخواست پیش کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ چیف جسٹس کے ہاتھوں ڈگری حاصل کرنا نہیں چاہتے۔

 

طلبہ نے واضح کیا کہ ان کا اعتراض محض کسی ایک شخصیت سے متعلق نہیں بلکہ آئینی اقدار، شہری حقوق اور احتجاج کے معاملات پر عدلیہ کے ردعمل جیسے وسیع تر مسائل سے متعلق ہے۔طلبہ نے اپنی درخواست میں کہا کہ کانووکیشن کا پلیٹ فارم یونیورسٹی کی اقدار کی عکاسی کرنا چاہیے۔

 

طلبہ کے اعتراض کی بنیادی وجہ 20 جولائی کو دہلی کے جنتر منتر پر ’چلو سنسد‘ احتجاج کے دوران پولیس کی کارروائی سے متعلق سپریم کورٹ میں دائر درخواست ہے۔یہ احتجاج کاکروچ جنتا پارٹی کی قیادت میں نیٹ امتحان کے انعقاد اور نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی این ٹی اے کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کیا گیا تھا۔

 

اس دوران پولیس کی جانب سے مبینہ طور پر ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کیے جانے کے الزامات سامنے آئے تھے۔22 جولائی کو اس معاملے کی فوری سماعت کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست پیش کی گئی۔ طلبہ نے عدالت کے ردعمل پر بھی اعتراض ظاہر کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیس کارروائی سے متعلق ویڈیو شواہد پیش کرنے کی کوشش کرنے والے وکلا کو مناسب موقع نہیں دیا گیا۔ط

 

لبہ نے دعویٰ کیا کہ احتجاج کے دوران 170 سے زائد مظاہرین زخمی ہوئے تھے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ انہوں نے شہریوں کے حقوق اور پولیس کے اختیارات کی حدود سے متعلق سپریم کورٹ کی سابقہ ہدایات کا بھی حوالہ دیا۔

 

نلسار کے طلبہ نے وائس چانسلر، رجسٹرار اور فیکلٹی کو دی گئی درخواست میں جسٹس سوریہ کانت کو کانووکیشن کا مہمانِ خصوصی بنانے کے فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کیا۔طلبہ نے کہا کہ انہوں نے قانونی تعلیم کے دوران عوام کے حقوق، انصاف تک رسائی اور مسائل پر منطقی بحث جیسی اقدار سیکھی ہیں۔

 

تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ نلسارنے واقعی چیف جسٹس کو اس تقریب کے لیے باضابطہ طور پر دعوت دی ہے یا نہیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے اس معاملے پر تاحال اپنا حتمی فیصلہ باضابطہ طور پر جاری نہیں کیا ہے۔اسی دوران ممبئی کی معروف ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز میں بھی جسٹس سوریہ کانت کی شرکت والی کانووکیشن تقریب ملتوی کیے جانے کا معاملہ موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔

 

2 اگست کو ہونے والی TISS کی 86ویں کانووکیشن تقریب کو ’’غیر متوقع حالات‘‘ کے باعث ملتوی کرنے کی اطلاع انتظامیہ نے طلبہ کو دی تھی۔ انتظامیہ نے کہا تھا کہ نئی تاریخ کا اعلان جلد کیا جائے گا۔اگرچہ تقریب ملتوی کرنے کی سرکاری وجہ واضح نہیں کی گئی تاہم یہ قیاس آرائیاں شروع ہوگئی ہیں کہ سکیورٹی خدشات اور ممکنہ احتجاج سے متعلق اطلاعات اس فیصلے کی وجہ ہوسکتی ہیں۔

 

جسٹس سوریہ کانت کے ماضی کے تبصروں اور CJP کی تحریک کے پس منظر میں ان واقعات کا مختلف حلقوں کی جانب سے تجزیہ کیا جارہا ہے۔ماضی میں ایک مقدمے کی سماعت کے دوران جسٹس سوریہ کانت کی جانب سے ’’کاکروچ‘‘ اور ’’پرجیوی‘‘ جیسے الفاظ استعمال کیے جانے کی خبریں سامنے آئی تھیں۔

 

بعض لوگوں کا خیال تھا کہ یہ تبصرے بے روزگار نوجوانوں کے حوالے سے تھے، تاہم جسٹس سوریہ کانت نے وضاحت کی تھی کہ ان کا اشارہ ان افراد کی جانب تھا جو جعلی ڈگریوں کے ذریعے وکالت کے شعبے میں داخل ہورہے ہیں۔ان تبصروں کے پس منظر میں ابھیجیت دیپکے کی قیادت میں کاکروچ جنتا پارٹی قائم کی گئی۔ بعد ازاں نیت امتحان کے معاملے پر اس تنظیم کی جانب سے کیے گئے احتجاج ملک بھر میں موضوعِ بحث بن گئے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button