نیشنل

زعفرانی جماعت کا دوہرا موقف۔ جھارکھنڈ طلباء پولیس لاٹھی چارج کے خلاف پارلیمنٹ کے احاطہ میں این ڈی اے کا احتجاج اور دہلی واقعہ پر خاموشی

نئی دہلی: پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے اختتامی مرحلے میں داخل ہونے کے ساتھ ہی حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی کشمکش مزید تیز ہوگئی ہے۔ طلبہ کے احتجاج، پولیس کی کارروائی اور دیگر مسائل پر اپوزیشن مرکز کو گھیر رہی ہے، جبکہ اس کے جواب میں این ڈی اے کے ارکان پارلیمنٹ بھی جوابی حکمت عملی کے تحت احتجاج کررہے ہیں۔

 

اسی دوران پارلیمنٹ کے احاطے میں کشیدگی کی صورتحال پیدا ہوگئی۔حکمراں این ڈی اے کے ارکان پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ احاطے میں بڑے پیمانے پر احتجاج کیا۔ ارکان نے مکر دوار تک ریلی نکالی اور اپوزیشن کے خلاف پلے کارڈز اٹھائے۔

 

انہوں نے اپوزیشن پر پارلیمنٹ کی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام لگاتے ہوئے نعرے لگائے۔ قابل ذکر ہے کہ اسی پارلیمنٹ احاطے میں کانگریس کی قیادت میں اپوزیشن جماعتیں گزشتہ کئی دنوں سے مرکز کے خلاف احتجاج کررہی ہیں۔

 

پارلیمنٹ احاطے میں حکمراں اور اپوزیشن ارکان کے درمیان ایک دوسرے کے مقابل احتجاج جاری رہا۔ جس وقت این ڈی اے ارکان اپوزیشن کے خلاف ریلی نکال رہے تھےاسی وقت اپوزیشن ارکان نے بھی احتجاج شروع کردیا۔این ڈی اے ارکان نے اپوزیشن کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ بحث سے بھاگ رہی ہے اور پارلیمنٹ کی کارروائی کو روک رہی ہے۔

 

ارکان نے پلے کارڈس کے ذریعے اپوزیشن پر بحث میں حصہ لینے کے بجائے فرار ہونے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی سے بحث میں حصہ لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے بھی نعرے لگائے۔دوسری جانب جھارکھنڈ میں طلبہ پر پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج کے خلاف بھی این ڈی اے ارکان نے احتجاج کیا۔

 

اس کے جواب میں انڈیا اتحاد کے ارکان پارلیمنٹ نے نیٹ اور ایف سی آر اے ترمیمی بلوں کے خلاف نعرے لگائے۔ انہوں نے ایف سی آر اے ترمیمی بل واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ نیٹ کے معاملے پر کانگریس کے ساتھ ڈی ایم کے ارکان پارلیمنٹ نے بھی احتجاج میں حصہ لیا۔

 

اس طرح پارلیمنٹ کا احاطہ سیاسی نعروں سے گونج اٹھا۔این ڈی اے ارکان نے واضح کیا کہ طلبہ کے احتجاج سے متعلق معاملے پر مرکزی حکومت بحث کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ بھی ایوان میں جواب دینے کے لیے تیار ہیں تاہم این ڈی اے قائدین نے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ بحث میں حصہ لینے کے بجائے پارلیمنٹ کی کارروائی میں رکاوٹ ڈال رہی ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل پر بحث کے لیے بنائے گئے ایوان کو مفلوج کرنا مناسب نہیں ہے۔بی جے پی رکن پارلیمنٹ سنجے جیسوال نے کہا کہ حکومت بحث کے لیے تیار ہے لیکن راہل گاندھی تیار نہیں ہیں۔

 

ان کے مطابق، راہل گاندھی نے لوک سبھا کی کارروائی روک رکھی ہے اور وزیر داخلہ جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔این ڈی اے ارکان کے احتجاج سے قبل وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ’’منگل ملن‘‘ پروگرام منعقد ہوا۔ اجلاس میں پارلیمنٹ کی صورتحال اور اپوزیشن کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا

 

جس کے بعد این ڈی اے ارکان نے ریلی نکالی۔سیاسی حلقوں کے مطابق اپوزیشن کے مسلسل احتجاج کے جواب میں حکمراں جماعت نے اس مرتبہ ’’ریورس اسٹریٹیجی‘‘ اختیار کی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button