کریم نگر میں بی آر ایس کارکن ؛ بی جے پی کارپوریٹر کے قاتلانہ حملہ میں زخمی

کریم نگر میں ایک نوجوان پر چاقوؤں اور بیئر کی بوتل سے حملہ کرنے کے الزام میں بی جے پی کے کارپوریٹر سمیت 7 افراد کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔ گرفتار افراد میں مرکزی وزیر بَنڈی سنجے کے قریبی ساتھی اور 29ویں ڈویژن کے بی جے پی کارپوریٹر سومیدی وینو پرساد بھی شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق کریم نگر تھری ٹاؤن پولیس اسٹیشن کی حدود میں واقع کسان نگر کے رہنے والے بی آر ایس کارکن سری کانت اور اس کے بھائی پر وینو پرساد اور اس کے ساتھیوں نے چاقوؤں اور بیئر کی بوتلوں سے حملہ کیا۔ حملے کے دوران وینو پرساد نے سری کانت کے پیٹ میں بیئر کی بوتل گھونپ دی اور وہاں سے فرار ہوگیا۔
شدید زخمی سری کانت کو مقامی افراد نے فوری طور پر اسپتال منتقل کیا۔ متاثرہ کی شکایت پر پولیس نے قتل کی کوشش کا مقدمہ درج کرتے ہوئے بی جے پی کارپوریٹر سومیدی وینو پرساد (اے-1)، کُدِدی ناگیندر، پنتنگی مدھو، نیرّیلا ناگراج، سری راموجو بھانو چندر، سنگم وینو اور پنتنگی ششی دھر کو گرفتار کرلیا
کریم نگر کے بی آر ایس رکن اسمبلی گنگولا کملاکر نے واقعہ کی اطلاع ملنے کے بعد پیر کو اسپتال پہنچ کر زخمی سری کانت کی عیادت کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر کریم نگر کے عوام نے بی جے پی کو میئر کا عہدہ سونپا تو پارٹی نے شہر میں حملوں کی سیاست کو فروغ دینا شروع کردیا ہے۔
گنگولا کملاکر نے سوال کیا کہ بی جے پی میں کیا کچھ ہو رہا ہے، کیا مرکزی وزیر بَنڈی سنجے کو اس کا علم ہے؟ انہوں نے مرکزی وزیر سے مطالبہ کیا کہ واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں پارٹی سے معطل کیا جائے۔



