تلنگانہ

تلنگانہ میں ایس آئی آر کے لئے نئے جاری کردہ فیملی رجسٹر سرٹیفکیٹ ناقابل قبول – الیکشن کمیشن کی وضاحت

تلنگانہ میں جاری ووٹر لسٹ کی خصوصی جامع نظرثانی  کے دوران نئے جاری کئے جانے والے ’فیملی رجسٹر سرٹیفکیٹس‘ کی حیثیت پر مرکزی الیکشن کمیشن  نے وضاحت کی ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے 25 جولائی کو جاری کردہ جی او نمبر 172 کے تحت می سیوا کے ذریعے جاری کئے جانے والے فیملی رجسٹر سرٹیفکیٹس کو ووٹر رجسٹریشن اور جانچ کے عمل میں قبول نہیں کیا جائے گا۔

 

اس سلسلے میں الیکشن کمیشن کے سکریٹری نوین کمار نے تلنگانہ کے چیف الیکٹورل آفیسر کو ایک سرکاری خط روانہ کیا ہے۔

 

الیکشن کمیشن نے بتایا کہ ماضی میں تحصیلدار فیلڈ سطح پر تحقیقات اور دستاویزات کی جانچ کے بعد ہی فیملی ممبر سرٹیفکیٹ جاری کرتے تھے۔ تاہم جی او 172 کے تحت کسی پیشگی تحقیقات کے بغیر صرف راشن کارڈ کے ڈیٹا کی بنیاد پر آن لائن دو دن کے اندر یہ سرٹیفکیٹس جاری کئے جا رہے ہیں۔

 

الیکشن کمیشن کے مطابق اس طرح جاری کیا جانے والا نیا فیملی رجسٹر سرٹیفکیٹ دراصل ’راشن کارڈ‘ کے برابر ہے۔ کمیشن نے سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ راشن کارڈ شہریت کا قطعی ثبوت نہیں ہے، اس لئے اسے ووٹر لسٹ کی جانچ کے لئے مستند دستاویز نہیں مانا جا سکتا۔

 

اسی بنیاد پر الیکشن کمیشن نے واضح کیا کہ جی او 172 کے تحت جاری کئے جانے والے نئے فیملی رجسٹر سرٹیفکیٹس کو شناختی دستاویز کے طور پر قبول نہیں کیا جائے گا۔

 

تاہم 25 جولائی 2026 سے قبل پرانے طریقہ کار کے تحت تحصیلدار کی جانب سے فیلڈ تحقیقات کے بعد جاری کئے گئے فیملی ممبر سرٹیفکیٹس کو SIR کی جانچ کے عمل میں قبول کیا جائے گا۔

Oplus_131072

متعلقہ خبریں

Back to top button