تلنگانہ

چینی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ – 15 دن میں 14 روپے اضافہ؛ 65 روپے کلو تک پہنچنے کا اندازہ

حیدرآباد :  چینی کی قیمتوں میں اچانک اضافہ ہونے سے عام لوگ پریشان ہیں۔ صرف 15 دن میں چینی کی قیمت فی کلو 14 روپے بڑھ گئی ہے، جس سے گھریلو بجٹ پر اضافی بوجھ پڑ رہا ہے۔ روزمرہ استعمال کی اہم چیز چینی مہنگی ہونے سے متوسط اور غریب خاندانوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ تاجرین کا کہنا ہے کہ چینی کی قیمت بڑھنے سے چائے، کافی کے علاوہ مٹھائیوں اور بیکری مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔

 

صارفین نے حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ قیمتوں میں اضافے پر توجہ دیتے ہوئے بازار میں غیر قانونی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت کو روکا جائے۔ عوام نے چینی کی قیمتوں کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے فوری اقدامات کرنے کی اپیل کی ہے۔

 

قیمت مزید بڑھنے کا امکان

ضلع میں 15 دن قبل ایک کلو چینی کی قیمت 46 روپے تھی، جو ایک ہفتہ قبل بڑھ کر 52 روپے ہوگئی۔ اب چینی کی قیمت 60 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔ کئی تاجروں کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں چینی کی قیمت 65 روپے فی کلو تک پہنچ سکتی ہے۔

 

چینی مہنگی ہونے سے گھروں میں روزانہ کے استعمال پر بھی اثر پڑ رہا ہے۔ چینی کا خرچ بڑھنے سے غریب اور متوسط طبقے کی خواتینِ خانہ پریشان ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے ہی روزمرہ اشیاء کی بڑھتی قیمتوں کے باعث مشکلات کا سامنا ہے اور اب ایک اور اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

 

تاجروں کی جانب سے پیشگی ذخیرہ اندوزی

چینی کی قیمتیں مزید بڑھنے کے خدشے کے پیش نظر بعض تاجر اور بڑے صارفین بڑی مقدار میں چینی ذخیرہ کر رہے ہیں، جس کے باعث بازار میں فوری سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔ اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے حکومت نے بلک صارفین کے لیے 15 دن کی ذخیرہ کرنے کی حد مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ صارفین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بازار میں چینی کی غیر قانونی ذخیرہ اندوزی پر سخت نظر رکھی جائے۔

 

قیمتوں میں اضافے کی وجوہات

ملک میں چینی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کی پانچ اہم وجوہات بتائی جا رہی ہیں۔ گنے کی پیداوار پر موسمی حالات کا اثر، گنا پیدا کرنے والے اہم علاقوں میں بارش کی کمی اور آئندہ سیزن میں پیداوار کم ہونے کے خدشات نے قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔

 

ملکی کھپت کے مقابلے میں چینی کے دستیاب ذخائر بھی کم ہو رہے ہیں۔ آئی سی آر اے کے اندازے کے مطابق ستمبر تک چینی کے اختتامی ذخائر تقریباً 43 لاکھ ٹن رہ جانے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ایتھنول کی پیداوار میں اضافے کے باعث چینی کی شکل میں بازار میں آنے والی مقدار بھی کچھ کم ہو رہی ہے۔

 

تہواروں کے سیزن میں چینی کی طلب بڑھنے سے بھی ذخائر پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ گنیش چتورتھی، دسہرہ اور دیوالی سے قبل مٹھائیوں، بیکری مصنوعات اور مشروبات سمیت مختلف شعبوں میں چینی کی کھپت میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگست سے نومبر کے دوران بڑھتی ہوئی اضافی طلب سپلائی پر مزید دباؤ ڈال رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button