انٹر نیشنل

عمران خان کو 6 گھنٹے کے اندر ہاسپٹل سے دوبارہ جیل بھیج دیا گیا

نئی دہلی: پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کے لیے مشکلات کا دور ختم ہی نہیں ہو رہا ہے۔ انہیں ہاسپٹل سے ایک بار پھر جیل بھیج دیا گیا ہے۔

 

سپریم کورٹ کے حکم کو پیش نظر رکھتے ہوئے عمران کو سخت سیکورٹی کے درمیان شفا انٹرنیشنل ہاسپٹل منتقل کیا گیا تھا لیکن 6 گھنٹے کے اندر ہی طبی جانچ کے بعد انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل واپس بھیج دیا گیا۔ یہ معاملہ اب ایک ڈرامہ جیسا معلوم ہونے لگا ہے جس میں کئی اتار چڑھاؤ بہت تیزی کے ساتھ دیکھنے کو مل رہے ہیں۔

 

میڈیا رپورٹس کے مطابق شفا انٹرنیشنل ہاسپٹل میں ڈاکٹروں کی ٹیم نے عمران خان کا چیک اپ کیا۔ جانچ کے بعد ڈاکٹروں نے مانا کہ انہیں فی الحال جیل میں رکھنا زیادہ محفوظ ہے۔ اس مشورہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے شہباز حکومت نے جمعہ کی علی الصبح انھیں اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہاسپٹل سے واپس اڈیالہ جیل پہنچا دیا۔

 

انہیں راولپنڈی واقع اڈیالہ جیل سے جمعرات دیر رات ہی طبی جانچ کے لیے لایا گیا تھا۔ جیل ذرائع کے مطابق پولیس سخت سیکورٹی کے درمیان عمران کو واپس جیل لے گئی۔بتایا جا رہا ہے کہ ہاسپٹل میں عمران خان کی جانچ 6 ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم نے کی۔

 

انھیں ہاسپٹل لے جانے کا فیصلہ پاکستانی سپریم کورٹ کے حکم کے بعد لیا گیا تھا۔ عدالت نے ان کی خراب صحت کو دیکھتے ہوئے 2 دن کے اندر طبی جانچ اور علاج کے لیے انہیں شفا انٹرنیشنل ہاسپٹل لے جانے کی ہدایت دی تھی۔ عدالت نے عمران کی جانچ کے لیے میڈیکل بورڈ بنانے کو بھی کہا تھا۔

 

ساتھ ہی ڈاکٹر عظمیٰ اور ان کے ذاتی ڈاکٹر کو جانچ اور علاج کے دوران موجود رہنے کی اجازت دی گئی تھی۔ علاج کا خرچ ان کے خاندان کو ہی اٹھانا تھا۔عمران خان کے ہاسپٹل پہنچنے سے پہلے شفا انٹرنیشنل ہاسپٹل کے آس پاس سیکورٹی بڑھا دی گئی تھی۔ بڑی تعداد میں پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کی گئی تھی۔

 

اس سے پہلے اسلام آباد کے پولیس انسپکٹر جنرل سید علی ناصر رضوی نے سینئر پولیس افسران کے ساتھ ہاسپٹل کا دورہ کر کے سیکورٹی انتظامات کا جائزہ لیا تھا۔ قابل ذکر یہ بھی ہے کہ عمران خان کو پرائیویٹ ہاسپٹل بھیجنے کے سپریم کورٹ کے حکم کے خلاف مرکزی حکومت نے نظرثانی کی درخواست دائر کی تھی۔

 

حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ عدالت کا 18 اگست کا عبوری حکم قانونی دائرے سے باہر ہے۔ حکومت نے یہ بھی کہا تھا کہ عمران خان کی پہلے بھی کئی بار طبی جانچ ہو چکی ہے اور ان کے علاج کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دیے گئے ہیں۔ حکومت کا کہنا تھا کہ جیل سے ہاسپٹل بھیجنے کا فیصلہ طبی ماہرین کی رائے کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔

 

حالانکہ سپریم کورٹ کے رجسٹرار دفتر نے نظرثانی کی درخواست پر کچھ اعتراضات ظاہر کیے اور اسے واپس کر دیا تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button