جرائم و حادثات

دہلی میں مرکزی وزارتِ دفاع کی خاتون عہدیدار نازیہ خانم نے خودکشی کرلی – گھر والوں کا سسرالی رشتہ داروں پر قتل کا الزام

نئی دہلی –  مرکزی وزارتِ دفاع کی خاتون عہدیدار نے دہلی میں اپنے گھر میں مبینہ طور پر خودکشی کرلی۔ نازیہ خانم وزارتِ دفاع کے دفتر میں اسسٹنٹ سیکشن آفیسر کے عہدے پر فائز تھیں۔ ان کے والد تواب خان نے سسرال والوں پر ہراسانی اور جہیز کے لیے دباؤ ڈالنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ انہی اذیتوں کے باعث ان کی بیٹی کی جان گئی۔

 

تواب خان کے مطابق نازیہ کی شادی 11 اپریل 2026 کو اعظم علی خان سے ہوئی تھی اور شادی کے ایک ہفتے بعد ہی اس نے شوہر اور سسرال والوں کی جانب سے جسمانی و ذہنی اذیت دیے جانے کی شکایت کی تھی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ شوہر نے نازیہ کو قتل کرکے واقعہ کو خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا ہے کہ نازیہ تین ماہ کی حاملہ بھی تھی۔

 

والد نے مزید الزام لگایا کہ ساس سسر اسے اکثر برا بھلا کہتے اور جہیز لانے کے لئے مجبور کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ چند دن بعد دہلی جاکر بات کرنے والے تھے، لیکن اس سے پہلے ہی بیٹی کی موت ہوگئی۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ داماد کے والد سابق پولیس افسر ہونے کی وجہ سے دہلی پولیس نے معاملہ کو دبانے کی کوشش کی۔

 

دوسری جانب نازیہ کے شوہر نے پولیس کو بتایا کہ جمعہ کو دونوں کے درمیان بحث ہوئی، جس کے بعد نازیہ دوسرے کمرے میں چلی گئی اور دروازہ اندر سے بند کرلیا۔ کچھ دیر بعد دیکھنے پر وہ چھت کے پنکھے سے پھندے پر لٹکی ہوئی ملی۔ اسے فوری طور پر ہاسپٹل منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔

 

نازیہ کے گھر والوں نے دوارکا سیکٹر-23 پولیس اسٹیشن کی کارروائی پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ مسلسل پولیس اسٹیشن کے چکر لگا رہے ہیں، لیکن ان کی شکایت پر ایف آئی آر درج نہیں کی جارہی۔ خاندان نے ایس ایچ او کے ساتھ تفتیشی افسران ستپال اور جے پال کے کردار کی بھی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

 

نازیہ کے گھر والوں نے انصاف ملنے تک نعش لینے سے انکار کردیا ہے۔ خاندان کا کہنا ہے کہ انہیں مقامی پولیس پر اعتماد نہیں، اس لیے معاملے کی تحقیقات مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) سے کرائی جائے۔ اہلِ خانہ نے شوہر، ساس اور سسر کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) کی متعلقہ دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کرکے سخت کارروائی، پولیس کے کردار کی اعلیٰ سطحی تحقیقات اور پورے معاملے کی سی بی آئی سے غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

 

نازیہ کے والد تواب خان ٹرک ڈرائیور ہیں۔ اہلِ خانہ کے مطابق محدود مالی وسائل کے باوجود نازیہ نے سخت محنت کرکے ایس ایس سی سی جی ایل کا امتحان پاس کیا اور مرکزی حکومت میں اسسٹنٹ سیکشن آفیسر کے عہدے تک پہنچی۔ خاندان کا کہنا ہے کہ جس بیٹی نے محنت اور جدوجہد سے سرکاری ملازمت حاصل کی، اب اس کی موت کے معاملے میں بھی انہیں انصاف کے لیے جدوجہد کرنا پڑ رہی ہے۔

 

پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں۔ نازیہ کی موت خودکشی ہے یا اس کے پیچھے کوئی اور وجہ ہے، اس کا حتمی فیصلہ تحقیقات اور شواہد کی بنیاد پر ہی ہوسکے گ

Oplus_131072

متعلقہ خبریں

Back to top button