پل بن رہے ہیں، مستقبل ٹوٹ رہے ہیں؟
ڈاکٹر سیدہ نسیم سلطانہ، ماہرِ تعلیم و سماجی جہدکار، حیدرآباد
ریاست میں پل بن رہے ہیں، سڑکیں بن رہی ہیں، عمارتیں بن رہی ہیں، بڑے بڑے تعمیراتی منصوبے جاری ہیں — مگر ایک سوال ہے جو شاید ان تمام تعمیرات سے زیادہ اہم ہے:
ان عمارتوں میں تعلیم کون دے گا؟
ریاست کی ترقی صرف کنکریٹ، سیمنٹ اور لوہے سے نہیں ہوتی۔ اگر اسکول خالی، جامعات اساتذہ سے محروم اور طلبہ اسکالرشپ کے منتظر ہوں تو پھر یہ ترقی کس کے لیے ہے؟
گزشتہ کئی برسوں سے طلبہ کی اسکالرشپس کی عدم اجرائی ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ دوسری طرف سرکاری جامعات اور کالجوں میں تدریسی اسامیاں خالی پڑی ہیں۔ بعض شعبوں میں 20، 25 برس سے مستقل تقررات نہیں ہوئے۔ اردو کے شعبہ جات بالخصوص مسلسل نظرانداز کیے جا رہے ہیں اور تعلیمی ادارے جز وقتی اور کنٹریکٹ اساتذہ کے سہارے چل رہے ہیں۔
یہ سوال حکومت سے نہیں، براہِ راست وزیرِ اعلیٰ سے ہے:
اگر پولیس کی خالی اسامیاں پُر ہوسکتی ہیں، انتظامی عہدوں پر تقررات ہوسکتے ہیں اور بڑے بڑے تعمیراتی منصوبوں کے لیے بجٹ دستیاب ہے، تو استاد کی خالی اسامی پُر کرنے کے لیے حکومت کے پاس کیا نہیں ہے؟
کیا استاد کسی بھی ریاست کے لیے پولیس افسر سے کم اہم ہے؟
کیا ایک IAS افسر بغیر استاد کے تیار ہوسکتا تھا؟
کیا ڈاکٹر، انجینئر، سائنس داں اور خود ایک وزیرِ اعلیٰ بھی کبھی کسی استاد کا طالب علم نہیں رہا؟
پھر استاد ہی حکومت کی ترجیحات میں سب سے آخر میں کیوں؟
حکومتوں کو یہ یاد رکھنا ہوگا کہ
ایک پل چند علاقوں کو جوڑتا ہے،
ایک استاد پوری نسل کو جوڑتا ہے۔
ایک عمارت چند دہائیوں تک قائم رہتی ہے،
ایک استاد کی تعلیم نسلوں تک زندہ رہتی ہے۔
اس لیے عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ریاست کی اصل ترجیح کیا ہے:
کنکریٹ یا کردار؟
عمارت یا انسان؟
تعمیرات یا تعلیم؟
اب وقت آگیا ہے کہ حکومت صرف نئی عمارتوں کا افتتاح نہ کرے بلکہ خالی تدریسی اسامیوں کے بھرنے کا بھی افتتاح کرے۔
ہمارے تین مطالبات ہیں:
1. طلبہ کی رکی ہوئی اسکالرشپس فوری جاری کی جائیں۔
2. جامعات میں برسوں سے خالی پڑی اسامیوں پر مستقل بنیادوں پر تقررات کیے جائیں۔
3. اردو سمیت تمام زبانوں کے شعبوں کو جز وقتی نہیں، مستقل اساتذہ فراہم کیے جائیں۔
کیونکہ وزیرِ اعلیٰ صاحب!
پل ٹوٹ جائے تو دوبارہ بن سکتا ہے،
عمارت گر جائے تو دوبارہ کھڑی کی جاسکتی ہے،
مگر ایک پوری نسل اگر تعلیم سے محروم ہوگئی تو اسے دوبارہ تعمیر کرنے میں دہائیاں لگ جائیں گی۔
اب فیصلہ حکومت کو کرنا ہے —
وہ صرف ریاست کی عمارتیں تعمیر کرنا چاہتی ہے
یا ریاست کا مستقبل بھی؟



