ڈیجیٹل بیٹیاں ایمان ,عصمت اور جان کی حفاظت کون کرے ؟ حفاظت دروازوں پر نہیں، دلوں پر تالا لگانے سے ہوگی

ڈاکٹر سیدہ نسیم سلطانہ
صدرنشین آل انڈیا علماء بورڈ ایجو کیشن ونگ تلنگانہ
ڈیجیٹل بیٹیاں ایمان ,عصمت اور جان کی حفاظت کون کرے ؟
حفاظت دروازوں پر نہیں، دلوں پر تالا لگانے سے ہوگی
کل تک ہم بیٹی کے گھر سے باہر قدم رکھنے پر پریشان ہوتے تھے، آج وہ اپنے کمرے میں بیٹھی ہو تو بھی پریشان ہیں، کیونکہ اس کے ہاتھ میں موجود ایک چھوٹی سی اسکرین پر پوری دنیا کا ہجوم امڈ آیا ہے۔ ہم نے گھر کے دروازوں اور کھڑکیوں پر تو مضبوط تالے اور گرل لگا دی، مگر اس کے ہاتھ کی اس کھڑکی کا دروازہ بغیر تالے کے کھلا ہے اور اس میں سے کون جھانک رہا ہے، ہمیں خبر تک نہیں۔
موبائل بذاتِ خود برائی نہیں۔ یہ علم، ہنر اور رابطے کا ایک طاقتور ذریعہ ہے۔ مگر اس کا تنہائی میں، بےمحابا اور غیر محتاط استعمال ہماری بیٹیوں کے ایمان، عصمت اور جان تک کے لیے ایک خاموش آزمائش بنتا جا رہا ہے۔
آج محبت، دوستی، ہمدردی اور شادی کے وعدوں کے نام پر معصوم بچیوں کو ورغلانے، جھوٹے ناموں اور جھوٹی کہانیوں سے جذباتی طور پر قابو کرنے، پھر بلیک میل کرنے اور بعض انتہائی صورتوں میں تشدد تک لے جانے کے واقعات ہمارے معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں۔
یہاں ایک بات بہت ٹھنڈے دل سے سمجھنے کی ہے۔ فریب کار کا کوئی مذہب، کوئی ذات، کوئی طبقہ نہیں ہوتا۔ ڈیجیٹل دنیا میں فریب دینے والا ذہن کسی بھی خوبصورت نام، کسی بھی ہمدرد لہجے اور کسی بھی شناخت کا لبادہ اوڑھ سکتا ہے۔ اس لیے کسی ایک قوم یا برادری کو مجرم قرار دے کر پورے مسئلے کو نفرت کی نذر کر دینا مسئلے کا حل نہیں، اصل حل یہ ہے کہ ہم اپنی بیٹیوں کو فریب کی نفسیات سے واقف کریں۔
اور سب سے بڑا خطرہ وہیں سے شروع ہوتا ہے جہاں بیٹی خوف کی وجہ سے خاموش ہو جاتی ہے۔ جب وہ کسی غلط تعلق یا بلیک میلنگ میں پھنس کر یہ سوچتی ہے کہ اگر گھر میں بتایا تو ڈانٹ پڑے گی، بدنامی ہوگی، مار پڑے گی، تو وہ اپنوں سے چھپنے لگتی ہے۔ یہی خاموشی، یہی چھپنا اسے فریب کار کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتا ہے۔
اسی لیے آج والدین کی پہلی ذمہ داری نگرانی سے پہلے اعتماد پیدا کرنا ہے۔
بیٹی کے دل میں یہ یقین راسخ کرنا ہوگا کہ بیٹی، اگر تم سے کوئی بھول ہو بھی گئی، اگر تمہیں کسی نے دھوکہ دے بھی دیا، اگر کوئی تمہیں ڈرا دھمکا بھی رہا ہے، تو یہ گھر تمہارے لیے عدالت نہیں، پناہ گاہ ہے۔ تمہاری ماں تمہاری پہلی وکیل ہے۔
اگر ہم ہر غلطی پر تحقیر اور سزا دیں گے تو وہ اپنی مشکل کو مزید چھپائے گی۔ اگر ہم محبت اور حکمت سے اس کی بات سنیں گے تو شاید ہم ایک زندگی، ایک عزت اور ایک ایمان کو بچا لیں گے۔
اس میں ماں اور باپ دونوں کا کردار ہے۔ ماں اگر خود دن رات موبائل کی اسکرین میں مصروف رہے اور بیٹی سے توقع کرے کہ وہ موبائل سے دور رہے تو نصیحت بے اثر ہو جائے گی۔ باپ اگر بیٹی کا دوست بن کر اس سے روز بات کرے گا تو بیٹی کو باہر کسی اجنبی کندھے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ بچوں کو اسکرین سے نکالنے کا سب سے مؤثر طریقہ موبائل چھین لینا نہیں، انہیں اپنا وقت، اپنی توجہ اور اپنی محبت دینا ہے۔ گھر میں ساتھ کھانا، بغیر موبائل کے گفتگو، سیر، کتابیں اور کوئی صحت مند مشغلہ۔ موبائل ضرورت کے لیے ہو، زندگی کا مرکز نہ بنے۔
ساتھ ہی ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ ہم اپنی بچیوں کو ڈگریاں تو دے رہے ہیں جو بہت ضروری ہے، مگر کیا ہم انہیں زندگی نبھانے کی عملی تربیت دے رہے ہیں؟ کھانا پکانا، گھر کو سلیقے سے رکھنا، پیسے کا بنیادی حساب، مہمان داری، اختلاف کو برداشت کرنا اور گفتگو سے مسئلہ حل کرنا، یہ کسی کی کمتری نہیں، یہ زندگی کی بنیادی مہارتیں ہیں۔ اور یہ تربیت صرف بیٹی کو نہیں، بیٹے کو بھی اتنی ہی ملنی چاہیے، کیونکہ گھر صرف عورت کی نہیں، میاں بیوی دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
ہمیں اپنی بیٹیوں کو دنیا سے کاٹ کر محفوظ نہیں بنانا، ہمیں انہیں دنیا کو سمجھنے کے قابل بنا کر محفوظ بنانا ہے۔
انہیں یہ سکھانا ہوگا کہ سوشل میڈیا پر ہر میٹھی بات محبت نہیں ہوتی، ہر خوبصورت گفتگو سچ نہیں ہوتی۔ اپنی نجی تصویر، لوکیشن، اسکول، کالج اور خاندان کی معلومات کبھی کسی اجنبی کو نہ دو۔ اگر کوئی تم سے رازداری، تنہائی میں ملنے یا ویڈیو کال پر اصرار کرے تو یہ خطرے کی پہلی گھنٹی ہے۔ اور اگر کبھی بلیک میلنگ کا سامنا ہو تو گھبرانا نہیں، اسکرین شاٹ محفوظ کرنا اور فوراً اپنی ماں یا کسی قابلِ اعتماد بڑے کو بتانا۔ یاد رکھو، قانون اور خاندان تمہارے ساتھ ہیں۔
بیٹی کی حفاظت صرف دروازے پر تالا لگانے سے نہیں ہوتی، اس کے دل کا دروازہ اپنے لیے کھلا رکھنے سے ہوتی ہے۔
آئیے ایسی نسل تیار کریں جو اسکرین کی غلام نہ ہو، جو محبت کے نام پر فریب کا شکار نہ ہو، جو اپنی روایت سے جڑی ہو مگر جدید دنیا سے باخبر بھی ہو۔ کیونکہ ہماری بیٹیوں کو صرف زندہ رہنے کی نہیں، باوقار، باخبر اور محفوظ زندگی گزارنے کی ضرورت ہے۔



