نکاح سنت کے مطابق، شادی رسم و رواج کے مطابق! یہ تضاد کیوں؟

قول و فعل میں تضاد کیوں؟
آئے دن ایسی چھچھوری شادیوں کی خبریں اخبارات اور سوشیل میڈیا پر وائرل ہوتی رہتی ہیں جن میں منگنی، مانڈا، سانچق، جہیز، بارات کا کھانا، عالیشان ولیمہ اور کئی دوسری خرافات سے بھرپور دعوتوں کے ہنگامے، علما، لیڈر اور بڑے سیلیبریٹیز کی تصویریں اور ویڈیوز ہوتی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ کھانے پر بھوکے بھیڑیوں کی طرح ٹوٹ پڑنے کے مناظر اور عورتوں کے سیکشن میں بیوٹی پارلر، زیور اور ساڑیوں کی فیشن پریڈ دیکھنے میں آتے ہیں اور لطیفہ یہ ہے کہ ہر میزبان ان بدعتوں پر پھولے نہیں سماتا گویا اس نے ’’شکوہِ ملک و دین‘‘ قائم کردیا ہو اور لاکھوں روپیہ ایسی منکرات میں اڑا کر سب سے انکساری سے کہتا ہے کہ ’’بس اللہ اور اس کے رسول کا صدقہ ہے‘‘اکثر بیانکویٹ ہالس کے دروازے پر ایک بورڈ لگا ہوتا ہے جس میں تقریب کا عنوان بھی لکھا ہوتا ہے جیسے ’’بات پکّی‘‘ ’’نام رکھائی‘‘، ’’برائڈ باتھ‘‘ وغیرہ۔ بچی بڑی ہونے پر بھی دعوت ہوتی ہے۔ الشیخ انورالاولاقی شہیدؒ نے کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ کسی کو ضرورت سے زیادہ دے کر بھی آزماتا ہے اور کم دے کر بھی۔ جب زیادہ ہوجائے تو جو نافرمان ہوتے ہیں ان سے پیسے کیسے خرچ کریں اس کا شعور چِھن جاتا ہے۔ تبھی وہ اپنی کچھ حلال اورکچھ حرام آمدنی کی بچت کو اِن بے ہودہ تقریبات پر خرچ کرنےلگتے ہیں۔ ابھی پچھلے ہفتہ ایک این آر آئی نے اپنی بیٹی کی شادی پر آٹھ ہزار لوگوں کو بارات کے کھانے پر بلایا۔ بڑے بڑے شرفا موصوف کےساتھ تصویریں لے کر اپنے سوشیل میڈیا پر ڈالنے لگے۔ دیکھنے والوں کا یہ کہنا تھا کہ کھانے کے لئے لوگ اس طرح ٹوٹ پڑرہے تھے جیسے درگاہ یا مندر کے لنگر پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ کون کتنا اعلیٰ ظرف اور شریف النفس ہے یہ دیکھنا ہو تو ایسے کھانوں کے موقع پر جاکر دیکھئے کیونکہ جو خوددار ہوتے ہیں وہ کبھی ایسی دعوتوں میں نہیں پھٹکتے۔ خیر یہ بات تو ان تعلیم یافتہ ان پڑھوں کی ہے جن کو علما حضرات جہلا کہتے ہیں لیکن آیئے ایک عالمِ دین کی بات کرتے ہیں ایک عالم دین کی بیٹی کی شادی کی خبر اخبار میں شائع ہوئی جس کا عنوان تھا ’’سادگی اور اسلامی روایات کی خوبصورت مثال‘‘۔ ساتھ میں تصویریں بھی شائع ہوئی تھیں۔ تصویریں شادی کے دن کے کھانے کی تھیں یہ اُن عالمِ دین کی بیٹی کی شادی تھی جنہوں نے کچھ سال قبل ایک قرارداد پر دستخط کئے تھے جس میں یہ لکھا تھا کہ ’’شادی کے دن کا کھانا شرعی طور پر جائز نہیں اور ایسی شادی میں جانا بھی جائز نہیں‘‘۔ طرفہ تماشہ یہ کہ ہر تیسری شادی کی طرح اِس شادی میں بھی شہر کے دو انتہائی نامور بزرگ علما نے نکاح کے موقع پر مخاطب کیا۔ نکاح کے موقعوں پر ایسے علما و مشائخین کا مخاطب کرنا ایک چلن بن گیا ہے لوگ اس کو باعثِ برکت سمجھتے ہیں۔ یہ لوگ یہ نہیں دیکھتے کہ جس شادی میں یہ شرکت کررہے ہیں اس میں دلہا مسجد میں سنت کے مطابق نکاح تو کررہا ہے لیکن نکاح کے بعد عالیشان شادی خانوں میں جاکر سنّت کے خلاف اپنے مہمانوں کو دلہن کے باپ کے خرچے پر کھلابھی رہا ہے۔ ناچ گانے بھی ہورہے ہیں کئی کئی ڈِش کی اسراف ہورہا ہے۔ ایسے علما اور مشائخین کو یہ پروا نہیں ہے کہ شادی کےدن کا کھانا نہ صرف مشرکوں کی نقل ہے بلکہ لڑکی والوں کو معاشی طور پر تباہ کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ یہ لوگ یہ سوچنے کی زحمت نہیں کرتے کہ قوم کی اکثریت اِسی کی وجہ سے غربت و افلاس کی شکار ہورہی ہے۔ یہ جہیز اور کھانے ایک مکمل سوشیل بلیک میل، دکھاوا اور مجبوری ہیں لیکن یہ حضرات فتویٰ دیتے ہیں کہ اگر خوشی سےدیا جائے تو جائز ہے اور لاکھوں لوگوں کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ مجبوری کو بھی خوشی کا نام دیں اور امیروں کے لئے یہ لوگ چوردروازہ فراہم کرتے ہیں یہ کہہ کر کہ جس کی جو استطاعت ہے خرچ کرنا چاہئے۔ ایسے علما اور مشائیخین یوں تو فقہ، ایمانیات، الٰہیات اور مسالک کی جنگیں لڑتے ہیں طلاق و خلع پر ضخیم کتابیں لکھ ڈالتے ہیں لیکن شریعت کا بنیادی مسئلہ شادی بھی ہے اس کے احکامات سے مکمل غافل ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ پڑھنے والے ہرگز یہ زحمت گوارا نہیں کرینگے کہ سوچیں، سمجھیں اور تحقیق کریں کہ کیوں یہ شادی کے کھانے اِس دور کی سب سے بڑی بدعت ہیں۔یہ اس لئے نہیں سوچتے کہ انسان فطرتاً غلام گیری کی ذہنیت لے کر پیدا ہوا ہے۔ یہ بھی اندھ بھگتوں کی طرح ہوتے ہیں۔ اندھ بھگت کبھی اپنے ضمیر یا عقل کو استعمال نہیں کرتا بلکہ ’’واتّخذوا اھبارھم و رھبانھم ارباباً من دون اللہ‘‘ (ان لوگوں نے اپنے پنڈتوں پروہتوں اور لیڈروں کو اپنا رب بنا لیا ہے۔)ان کے دماغوں کو ان پنڈتوں نے اس مضبوطی سے جکڑ دیا ہے ۔ ان بزرگوں کی ایسی شادیوں میں شرکت کو دین کی سند مان لیتے ہیں اور جو بھی ان کو حق بات سمجھانے کی کوشش کرے اُسے علما اور مشائخین کا دشمن، ناستِک، بے سند یافتہ غیرعالم وغیرہ وغیرہ کے الزامات سے اپنے ضمیر بلکہ ایمان کو اور مضبوط کرلیتے ہیں۔ سنا ہےکہ Genocide کے دس اسٹیجس ہوتے ہیں اور فاشسٹ نو اسٹیج طئے کرچکے ہیں جو آخری مرحلہ ہے وہ فاشسٹ دشمن نہیں بلکہ خود مسلمان پورا کررہے ہیں۔ یہ شادیاں اُسی قتلِ عام کا آخری اسٹیج ہیں اور ہر وہ مسلمان جو ایسی غیرشرعی شادیوں کا دعوت نامہ قبول کررہا ہے، وہ انجانے میں اپنی قوم کے قتلِ عام میں برابر کا شریک ہے۔ کیونکہ 90 فیصد آبادی آج ان شادیوں کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتی۔ لڑکیاں بہت تیزی سے گھروں سے بھاگ کر مشرکوں کے پہلو گرم کررہی ہیں،لڑکے بہت تیزی سے نشے، چوری اور قتل و غارتگری کے راستے پر ہیں۔ لڑکیوں کے بھائی بے بسی سے دیکھ رہے ہیں کہ وہ خود بزنس مین بن سکتے تھے لیکن ان کے حصے کا پیسہ ایک بہنوائی لوٹ لیتا ہے۔ باپ گھر بیچتے ہیں یا چندے مانگتے ہیں، اور مائیں انہی شادیوں کی وجہ سے بالاجی مندر کے بچت گھٹ اسکیموں سے قرضے لے کر اپنی عزتیں داؤ پر لگارہی ہیں۔ کہیں عورتیں خودکشی کررہی ہیں تو کہیں باپ بھکاری بن چکے ہیں۔ ایک ہی حل ہے لوگ یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ جو شادیاں نبیﷺ کے طریقے پر نہ ہوں ان سے دنیا اور آخرت دونوں تباہ ہورہے ہیں، ایسی شادیوں کا رقعہ قبول کرنا اور اِن میں شرکت کرنا فرمانانِ رسول کی ہمت افزائی کرنا ہے، لہذا اِس تحریک کا ساتھ دیں۔ یہ سچ ہے کہ اکثریت ساتھ نہیں دیتی۔ یہ ہمارے ساتھ ہی نہیں بلکہ تمام نبیوں کے ساتھ ہوچکا ہے لیکن اتنا یاد رہے کہ آخرت میں ہم اپنے ہر عمل کا جواب خود دینے والے ہیں وہاں ہر ایک کا حساب انفرادی ہوگا، اجتماعی نہیں۔ دوسرے لوگ جن کی خاطر آپ اپنی آخرت برباد کررہے ہیں وہ آپ کو آکر نہیں بچائیں گے، اس لئے اپنے دامن کو ایسی شادیوں کی شرکت سے پاک رکھئے۔ آپ انشااللہ کامیاب رہیں گے۔
ڈاکٹر علیم خان فلکی، صدر سوشیوریفارمس سوسائٹی، حیدرآباد، 9642571721




