شہریت ترمیم قانون میں بڑی تبدیلی، اب کلکٹرس کو مکمل اختیارات

نئی دہلی:شہریت ترمیمی قانون (CAA) کے نفاذ کے عمل میں ایک بڑی تبدیلی کرتے ہوئے مرکزی حکومت نے آٹھ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ضلع کلکٹرس کو شہریت کی درخواستوں پر فیصلہ کرنے اور انہیں منظور کرنے کا اختیار دے دیا ہے۔
اس سے پہلے یہ کام کمیٹی پر مبنی نظام کے ذریعے انجام دیا جاتا تھا۔یہ تبدیلی وزارتِ داخلہ کی جانب سے 19 اگست کو جاری کیے گئے دو نوٹیفکیشنس کے بعد سامنے آئی ہے۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد CAA کے تحت اہل تارکینِ وطن کی شہریت کی درخواستوں کے عمل کو آسان اور تیز بنانا ہے۔
نئے نظام کے تحت ضلع کلکٹرس اب صرف درخواستوں کی کارروائی میں معاونت نہیں کریں گے بلکہ وہ درخواستوں کی جانچ، دستاویزات کی تصدیق، تحقیقات، وفاداری کا حلف لینے اور شہریت ایکٹ کی دفعہ 6B کے تحت شہریت دینے کے حتمی مجاز افسر ہوں گے۔یہ فیصلہ CAA کے قواعد کے اعلان اور نفاذ کے بعد سے ہونے والی اہم ترین انتظامی تبدیلیوں میں سے ایک ہے۔
اب تک ان علاقوں میں شہریت کی درخواستیں حتمی فیصلے سے قبل ضلعی سطح کی کمیٹیوں اور بااختیار کمیٹیوں کے ذریعے گزرتی تھیں۔ نئے قواعد کے تحت اس اضافی مرحلے کو ختم کردیا گیا ہے۔درخواست گزار اپنی درخواستیں بدستور آن لائن جمع کراتے رہیں گے، لیکن تصدیق سے لے کر حتمی منظوری تک پورا عمل اب ضلع کلکٹرز کے ذریعے انجام دیا جائے گا۔
ترمیم شدہ قواعد کے مطابق اگر ضلع کلکٹر اس بات سے مطمئن ہو کہ درخواست گزار قانون کے تحت تمام اہلیت کے تقاضے پورے کرتا ہے تو وہ براہِ راست اسے بھارتی شہریت دے سکتا ہے۔نئے قواعد کہاں نافذ ہوں گے؟
گجرات، راجستھان، پنجاب، مغربی بنگال، آسام، سوائے ان قبائلی علاقوں کے جنہیں اس مقصد کے لیے نوٹیفائی کیا گیا ہے، تریپورہ، سوائے ان قبائلی علاقوں کے جنہیں اس مقصد کے لیے نوٹیفائی کیا گیا ہے، جموں و کشمیراور لداخ.
قواعد میں تبدیلی کے ساتھ جاری کیے گئے ایک الگ گزٹ نوٹیفکیشن میں ہدایت دی گئی ہے کہ ان علاقوں میں بااختیار کمیٹیوں اور ضلعی سطح کی کمیٹیوں کے سامنے زیرِ التوا تمام شہریت کی درخواستیں متعلقہ ضلع کلکٹرس کو منتقل کردی جائیں۔
شہریت ترمیمی قانون کے تحت ہندو، سکھ، بدھ، جین، پارسی اور عیسائی برادریوں سے تعلق رکھنے والے ان افراد کے لیے بھارتی شہریت حاصل کرنے کا تیز رفتار راستہ فراہم کیا گیا ہے
جو پاکستان، بنگلہ دیش یا افغانستان سے بھارت منتقل ہوئے اور 31 دسمبر 2014 یا اس سے پہلے بھارت میں داخل ہوئے تھے۔



