’’موت اس قدر کہیں مجھے نہ آئے گی،ابھی تو میں جوان ہوں‘‘—عتیق احمد کے بیٹے ابان کی موت سے پہلے کی شاعری، ویڈیو وائرل
اترپردیش کے سابق رکن پارلیمنٹ عتیق احمد مرحوم کے سب سے چھوٹے بیٹے ابان احمد کی حادثہ میں موت سے قبل کا ایک ویڈیو شوشل میڈیا پر وائرل ہورہا ہے جس میں وہ اپنے چند دوستوں کے ساتھ مل کر معروف اردو شاعر حفیظ جالندھری کی مشہور نظم ’’ابھی تو میں جوان ہوں‘‘ پڑھ رہے تھے دوستوں کی اس محفل کے چند روز بعد جھانسی میں ابان احمد کی خوفناک سڑک حادثے میں موت ہوگئی تھی۔
حادثے کے بعد ابان کی پرانی ویڈیوز سوشل میڈیا پر سامنے آ رہی ہیں۔ ایسی ہی یہ ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس میں ابان اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر شاعری کرتے نظر آ رہے ہیں۔ ویڈیو میں وہ موت کے حوالے سے شاعری پڑھتے ہوئے کہتے ہیں:
’’موت اس قدر کہیں مجھے نہ آئے گی،
یقیں نہیں، نہیں، ابھی نہیں، ابھی نہیں،
ابھی تو میں جوان ہوں۔‘‘
ویڈیو میں ابان اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں، جبکہ ان کا ایک دوست ویڈیو بنا رہا ہے۔ ابان کی موت کے بعد ان کی جانب سے پڑھی گئی یہ شاعری سوشل میڈیا پر لوگوں کی توجہ حاصل کر رہی ہے اور صارفین کی جانب سے جذباتی ردعمل بھی سامنے آ رہے ہیں۔
ابان کی 6 اگست کی صبح جھانسی میں سڑک حادثے میں موت ہوئی تھی۔ وہ پریاگ راج سے جھانسی جیل میں قید اپنے بھائی علی سے ملاقات کے لیے جا رہے تھے۔ کریٹا کار میں ابان کے ساتھ مزید چار دوست سوار تھے۔ صبح تقریباً 10:30 بجے ہائی وے پر ایک جانور کو بچانے کی کوشش کے دوران کار ڈیوائیڈر سے ٹکرا گئی۔
حادثے میں ابان اور ان کے دوست سونو کی موت ہوگئی، جبکہ تین دیگر دوست زخمی ہوئے۔ ابان اور سونو کی لاشیں جمعہ کی صبح تقریباً 4 بجے ایک ہی ایمبولینس کے ذریعے جھانسی سے پریاگ راج کے ہٹوا گاؤں لائی گئیں۔ اسی گاؤں میں ابان کی پھوپھی کا گھر ہے۔ عتیق احمد کا گھر منہدم کیے جانے کے بعد ابان یہیں رہتے تھے۔



