حج ہاؤس میں جامعہ نظامیہ رائے درگم وقف اراضی کے تحفظ کی جے اے سی کی میمورنڈم قبول نہ کرنے پر شدید احتجاج

حج ہاؤس میں جامعہ نظامیہ رائے درگم وقف اراضی کے تحفظ کی جے اے سی کی میمورنڈم قبول نہ کرنے پر شدید احتجاج
حیدرآباد، 27 اگست 2026: جامعہ نظامیہ رائدہ درگ وقف اراضی کے تحفظ کے مطالبے پر جامعہ نظامیہ رائے درگ وقف پروٹیکشن جوائنٹ ایکشن کمیٹی (JNRWP-JAC) کے وفد نے حج ہاؤس پہنچ کر تلنگانہ اسٹیٹ وقف بورڈ کے چیئرمین کو قرارداد اور نمائندگی پیش کرنے کی کوشش کی، تاہم وفد کے مطابق حکام نے میمورنڈم وصول کرنے سے بھی انکار کردیا۔ جے اے سی نے اس رویے پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔
جے اے سی کے کنوینر اور TSMHPS کے ریاستی صدر عبد الوہاب کی قیادت میں وفد کا کہنا تھا کہ وقف بورڈ کے چیئرمین اور سی ای او کی عدم موجودگی میں بھی میمورنڈم وصول کرکے اسے انورڈ کرنا متعلقہ حکام کی ذمہ داری تھی، لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ وفد نے الزام عائد کیا کہ اسے سیکورٹی عملے کے ذریعے روکا گیا اور پولیس کو بلانے کی تنبیہ بھی کی گئی۔
جے اے سی رہنماؤں نے کہا کہ وہ کسی تنازع یا ناخوشگوار واقعے کے لیے نہیں بلکہ پرامن اور قانونی طریقے سے اپنے مطالبات پیش کرنے آئے تھے۔ ان کے مطابق، عوامی اور وقف املاک کے تحفظ کے لیے آواز اٹھانے والے نمائندوں کے ساتھ اس طرح کا رویہ جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔
جے اے سی نے رائدہ درگ میں جامعہ نظامیہ کی 510 ایکڑ 35 گنٹہ وقف اراضی کی اصل ریکارڈ کی بنیاد پر شناخت، مکمل سروے اور حد بندی کا مطالبہ کیا۔ ساتھ ہی سروے نمبر 83/1 میں 10.63 ایکڑ اراضی کی TGIIC کی مجوزہ نیلامی فوری طور پر روکنے اور تنازع کے حل تک اس زمین پر فروخت، منتقلی، رجسٹریشن، ترقیاتی کام یا کسی بھی تیسرے فریق کے حقوق پیدا کرنے پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا۔
رہنماؤں نے دعویٰ کیا کہ G.O. Ms. No. 4، میونسپل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ، 2 جنوری 2003 کے تحت سروے نمبر 83 کو جامعہ نظامیہ کا ہیریٹیج سائٹ قرار دیا گیا تھا۔ اس لیے ان کے مطابق وقف حقوق کے ساتھ ساتھ زمین کی تاریخی اور تہذیبی اہمیت کا تحفظ بھی ضروری ہے۔
جے اے سی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جامعہ نظامیہ کی اراضی سے متعلق ریونیو، سروے، انعام، گزٹ، وقف، رجسٹریشن اور ہیریٹیج ریکارڈ کا جامع جائزہ لے کر اصل دستاویزات محفوظ کی جائیں۔ ماضی میں سروے نمبر 83 سے متعلق تقریباً 6.2 ایکڑ اراضی کی نیلامی، ملکیت کے تنازعات اور زیرِ التوا قانونی معاملات کی بھی مکمل تحقیقات کرائی جائیں۔
جے اے سی نے وقف اراضی کے تحفظ کے لیے مستقل باؤنڈری وال تعمیر کرنے، جامعہ نظامیہ اسل اینڈ ہیلتھ یونیورسٹی کی تجویز پر غور کرنے اور پورے معاملے کی شفاف و غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے کا بھی مطالبہ کیا۔
جے اے سی رہنماؤں نے واضح کیا کہ حکام کے مبینہ رویے یا میمورنڈم وصول نہ کرنے سے ان کی تحریک ختم نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ وقف املاک عوام کی امانت ہیں اور ان کے تحفظ کے لیے جدوجہد آئینی، جمہوری اور پرامن طریقے سے جاری رکھی جائے گی۔ ضرورت پڑنے پر تحریک کو مزید تیز کیا جائے گا۔
یہ مطالبات JNRWP-JAC کے کنوینر عبد الوہاب کے علاوہ محمد وسیم، ابرار حسین، عدنان قمر، ایڈووکیٹ آزاد، مجاہد ہاشمی، نعیم اللہ شریف، ڈاکٹر علیم خان فلکی، محمد وحید، محمد فیروز، عبد الحمید، خواجہ پاشا اور سید منصور شاہ سمیت دیگر اراکین نے پیش کیے۔



