نیشنل

یو پی آئی لین دین پر ایم ڈی آر چارجیس مقرر

نئی دہلی: نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا نے یو پی آئی لین دین پر مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ مقرر کر دیا ہے۔ این پی سی آئی کے مطابق 2,000 روپے سے زیادہ کی رقم پر تاجروں کو افراد کی جانب سے کی جانے والی ادائیگیوں پر 0.4 فیصد ایم ڈی آر چارج عائد ہوگا۔

 

یہ چارجز 15 اکتوبر 2026 سے نافذ ہوں گے۔این پی سی آئی نے واضح کیا ہے کہ عام صارفین کے لیے یو پی آئی لین دین پہلے کی طرح مفت جاری رہے گا۔ اسی طرح افراد کے درمیان ہونے والی ادائیگیاں (P2P) اور 2,000 روپے تک کی کاروباری ادائیگیاں (P2M) ایم ڈی آر کے دائرے میں نہیں آئیں گی۔

 

این پی سی آئی نے چھوٹے تاجروں کو ایم ڈی آر چارجز سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔ ایم ڈی آر فریم ورک کے تحت ایسے چھوٹے تاجروں سے کوئی چارج نہیں لیا جائے گا جو ہر ماہ ایک لاکھ روپے تک کی رقم QR کوڈ کے ذریعے اپنے بینک اکاؤنٹ میں وصول کرتے ہیں۔

 

ریلوے، ٹیلی کام خدمات، انشورنس اور ایندھن جیسے مخصوص شعبوں میں 2,000 روپے سے زیادہ کی ادائیگی پر فی لین دین 5 روپے کا فکسڈ ایم ڈی آر عائد ہوگا دیگر شعبوں میں 2,000 روپے سے زیادہ کی رقم پر 0.4 فیصد ایم ڈی آر وصول کیا جائے گا تاہم فی لین دین ایم ڈی آر کی زیادہ سے زیادہ حد 300 روپے مقرر کی گئی ہے۔

 

این پی سی آئی کے مطابق میوچوئل فنڈز، سیکیورٹیز، اسٹاک بروکرز اور ڈیلرز کے لیے 0.02 فیصد ایم ڈی آر لاگو ہوگا، جس کی زیادہ سے زیادہ حد 300 روپے ہوگی۔این پی سی آئی نے کہا کہ مجموعی یو پی آئی P2M لین دین میں 95 فیصد سے زیادہ ادائیگیاں 2,000 روپے سے کم کی ہوتی ہیں

 

اس لیے اس فیصلے سے چھوٹے تاجروں پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا۔ٹائر-3 اور اس سے چھوٹے شہروں میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے بنیادی ڈھانچے کو فروغ دینے اور چھوٹے تاجروں کی مدد کے لیے ایک خصوصی فنڈ بھی قائم کیا جائے گا۔این پی سی آئی نے کہا کہ کریڈٹ کارڈز، ڈیبٹ کارڈز اور ڈیجیٹل والٹس کے مقابلے میں نظرثانی شدہ یو پی آئی ایم ڈی آر چارجز کافی کم ہیں۔

 

این پی سی آئی نے یو پی آئی ایپس کو پلیٹ فارم فیس یا پوشیدہ چارجز عائد کرنے سے بھی منع کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button