ریونت ریڈی کا وعدہ خلافی اور یوٹرن ہی ٹریڈ مارک: کلواکنٹلہ کویتا

ریونت ریڈی کا وعدہ خلافی اور یوٹرن ہی ٹریڈ مارک: کلواکنٹلہ کویتا
ملازمین اور اساتذہ اپنے مسائل حل کرنے کا مطالبہ کریں تو انہیں دھمکایا جا رہا ہے، یاد رکھیں ملازمین حکومت کے غلام نہیں
18 ستمبر تک سرکاری ملازمین اور اساتذہ سے کئے گئے وعدے پورے کئے جائیں، ورنہ شدید احتجاج کا انتباہ
حیدرآباد: تلنگانہ رکشنا سینا کی چیف کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ وعدہ خلافی اور بات سے مکرجانا چیف منسٹر ریونت ریڈی کا ٹریڈ مارک بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے مسائل کے حل کا مطالبہ کرنے والے سرکاری ملازمین اور اساتذہ کو حکومت کی جانب سے دھمکایا جا رہا ہے جو انتہائی افسوسناک امر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری ملازمین حکومت کے غلام نہیں ہیں اور حکومت کو ان کے مسائل حل کرنے کے لئے سنجیدگی سے اقدامات کرنے چاہئیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ 18 ستمبر تک ملازمین اور اساتذہ سے کئے گئے وعدوں کو پورا کیا جائے۔ کویتا نے یقین دلایا کہ ملازمین کی جدوجہد میں ٹی آر ایس ہر ممکن تعاون کرے گی
۔سرکاری ملازمین اور اساتذہ کے مسائل کی یکسوئی کے مطالبہ پر ٹی آر ایس کی جانب سے منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ تلنگانہ تحریک کے دوران اساتذہ نے ملازمت سے زیادہ تحریک کو اہمیت دیتے ہوئے ریاست کے حصول کے لئے جدوجہد کی تھی لیکن آج ریونت ریڈی حکومت میں سرکاری ملازمین اور اساتذہ شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی حکومت عوام کو بہتر، شفاف اور موثر انتظامیہ فراہم کرنا چاہتی ہے تو اسے سرکاری ملازمین کے تعاون کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ریونت ریڈی حکومت ملازمین کو نظرانداز کرتے ہوئے ان کے ساتھ امتیازی رویہ اختیار کر رہی ہے
۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت مختلف اسکیموں کے نام پر بڑے بڑے دعوے کر رہی ہے، لیکن کوئی بھی اسکیم صحیح طور پر نافذ نہیں ہو رہی ہے اور ملازمین کو نظرانداز کئے جانے کے باعث نظم و نسق بھی صحیح انداز میں نہیں چل رہا ہے۔کویتا نے کہا کہ تلنگانہ رکشنا سینا اقتدار میں آنے کے بعد سرکاری ملازمین کو ریاست کی ترقی میں اہم کردار ادا کرنے والے ’ڈیولپرس‘ کے طور پر دیکھے گی اور ملازمین کو خوش اور باعزت رکھنے والی حکومت فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ جاگروتی نے گزشتہ 20 برسوں میں جو بھی پروگرام منعقد کئے،
انہیں کامیاب بنانے میں سرکاری اساتذہ نے ہمیشہ پیش پیش رہ کر اپنا کردار ادا کیا، جس پر انہیں فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات سے قبل ریونت ریڈی نے سرکاری ملازمین اور اساتذہ سے بہت سے وعدے کئے تھے، لیکن اقتدار میں آنے کے بعد انہیں نظرانداز کرکے مشکلات میں مبتلا کر دیا۔ آج ریاست کا کوئی بھی استاد یا سرکاری ملازم خوش نہیں ہے۔انہوں نے بتایا کہ ریاست میں پانچ لاکھ سے زائد مستقل سرکاری ملازمین ہیں جبکہ مزید تقریباً پانچ لاکھ آؤٹ سورسنگ ملازمین خدمات انجام دے رہے ہیں اور ریٹائرڈ ملازمین کی تعداد تقریباً دو لاکھ ہے۔
ان تمام ملازمین کو اعتماد اور بھروسہ دلانے کے لئے یہ کانفرنس منعقد کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس کا عظیم مقصد تلنگانہ میں ہر فرد کو مفت تعلیم اور مفت طبی سہولت فراہم کرنا ہے، لیکن کانگریس حکومت سرکاری تعلیم کو مکمل طور پر نظرانداز کر رہی ہے۔کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ ریاست میں تقریباً 600 منڈل ہیں، لیکن صرف آٹھ مستقل ایم ای اوز موجود ہیں، جس کے باعث سرکاری تعلیم کی نگرانی کا نظام تقریباً ختم ہو چکا ہے
۔ ہیڈ ماسٹروں اور سینئر اساتذہ کو ہی ایم ای او کی ذمہ داریاں دی جا رہی ہیں۔ طلبہ کے ’فیشل ریکگنیشن‘ اور مختلف رپورٹس کے نام پر اساتذہ کو پڑھانے کے بجائے غیر تدریسی کاموں میں مصروف کیا جا رہا ہے۔ ایک استاد والے اسکولوں کی صورتحال انتہائی خراب ہے اور اساتذہ کو سینیارٹی کے مطابق ملنے والی ترقیاں بھی نہیں دی جا رہی ہیں
۔ انہوں نے کہا کہ گروکل اداروں اور ڈگری کالجوں میں تقریباً 40 فیصد عہدے خالی ہیں، لیکن حکومت ان خالی آسامیوں کو پر نہیں کر رہی ہے اور موجودہ اساتذہ کے مسائل کی یکسوئی پر کوئی توجہ نہیں دے رہی ہے۔ کویتا نے مہنگائی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پٹرول، دال، نمک اور چینی سمیت ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور اس کے مطابق سرکاری ملازمین کو ڈی اے ملنا چاہئے، لیکن گزشتہ 32 ماہ سے ڈی اے جاری نہیں کیا گیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ملازمین کا حق یعنی مہنگائی بھتہ بھی حکومت نے روک رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن مسائل پر آج ملازمین پریشان ہیں، انہی مسائل پر ریونت ریڈی اقتدار سے قبل سابق حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے تھے لیکن اقتدار میں آنے کے بعد ان مسائل کے حل کے لئے کوئی اقدام نہیں کیا۔
کویتا نے کہا کہ ریاست میں تقریباً ایک لاکھ 20 ہزار اساتذہ ہیں اور جس حکومت نے اساتذہ کو ناراض کیا وہ دوبارہ اقتدار میں نہیں آسکی۔ کانگریس حکومت کا مستقبل بھی اس سے مختلف نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس کی پالیسی ہے کہ ہر گاؤں میں ایک اسکول اور ہر جماعت کے لئے ایک استاد ہونا چاہئے۔ اقتدار میں آنے کے بعد سرکاری تعلیم کو مضبوط اور محفوظ کیا جائے گا۔کویتا نے کہا کہ ریاست میں پولیس ملازمین کی صورتحال بھی انتہائی خراب ہے اور ان کے کئی فوائد ابھی تک زیر التوا ہیں۔ 2003 میں بھرتی ہونے والے پولیس ملازمین کو اولڈ پنشن اسکیم (او پی ایس) کا فائدہ نہیں ملا۔ اسی طرح 2003 میں بھرتی ہونے والے اساتذہ کو بھی او پی ایس دیا جانا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ اگر 2003 بیچ کے اساتذہ کو او پی ایس میں منتقل کیا جائے تو حکومت کو تقریباً 2 ہزار کروڑ روپئے کی بچت ہوسکتی ہے اور اس رقم سے دوسرے زیر التوا بقایاجات ادا کئے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ چیف منسٹر کو اس بنیادی معاملے کی بھی معلومات نہیں ہیں۔کویتا نے ملازمین کی تنظیموں سے اپیل کی کہ حکومت کے خلاف جدوجہد کے معاملے میں بار بار احتجاج ملتوی نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ’مدر کانگریس‘ کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے تلنگانہ حاصل کیا ہے،
اس لئے ’چائلڈ کانگریس‘ سے خوفزدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ آندھرا پردیش میں اساتذہ نے حکومت کے خلاف بڑی جدوجہد کرتے ہوئے اپنے مطالبات حاصل کئے ہیں۔ تلنگانہ کے ملازمین کو بھی اسی جذبہ کے ساتھ جدوجہد کرکے اپنے ڈی اے اور دیگر حقوق حاصل کرنے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ تقریباً 206 سرکاری ملازمین کی تنظیمیں جے اے سی کے تحت جدوجہد کر رہی ہیں اور ٹی آر ایس ان کی جدوجہد کی مکمل حمایت کرتی ہے۔ ملازمین کی تنظیمیں اگر حکومت کے خلاف جدوجہد کرنے سے خوفزدہ رہیں گی تو نچلی سطح کے ملازمین کا ان پر اعتماد بھی متزلزل ہوگا۔
کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ ریونت ریڈی کے وعدوں پر بھروسہ کرنے سے ملازمین کے ساتھ ناانصافی ہی ہوگی۔ ملازمین کی پی آر سی کی مدت ختم ہونے کے قریب ہے، اس لئے حکومت کو فوری طور پر 51 فیصد فٹمنٹ دینا چاہئے۔ انہوں نے چیف منسٹر کو کھلا چیلنج دیتے ہوئے پوچھا کہ کیا سرکاری ملازمین کو جاری کیا گیا ہیلت کارڈ ریاست کے کسی بھی پرائیویٹ اسپتال میں مؤثر طریقے سے کام کر رہا ہے؟ اگر یہ ہیلت کارڈ کسی بھی پرائیویٹ اسپتال میں کام کرتا ہے تو ٹی آر ایس حکومت جو چاہے کرنے کے لئے تیار ہے، لیکن اگر یہ کام نہیں کرتا تو کیا چیف منسٹر استعفیٰ دیں گے؟کویتا نے کہا کہ جب ملازمین اپنے جائز فوائد کا مطالبہ کرتے ہیں تو چیف منسٹر انہیں مزید دو سال انتظار کرنے کے لئے کہتے ہوئے دھمکا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دو سال بعد موجودہ حکومت ہی اقتدار میں نہیں ہوگی۔ ملازمین کسی بھی حکومت کے غلام نہیں ہیں۔ انہوں نے ریٹائرڈ ملازمین کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شاید حکومت سمجھتی ہے کہ ریٹائرڈ ملازمین کچھ نہیں کر سکتے، لیکن ان کے فوائد میں تاخیر کی صورت میں انہیں 6 سے 12 فیصد تک سود ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس اب تک اس بات کا خیال رکھ رہی ہے کہ ملازمین کو کسی قسم کی دشواری نہ ہو، لیکن وہ جو بھی احتجاج کریں گے، پارٹی اخلاقی طور پر ان کے ساتھ کھڑی رہے گی۔
کویتا نے کہا کہ ملازمین کی تنظیمیں جن 37 مطالبات پر جدوجہد کر رہی ہیں، ان میں زیادہ تر کا تعلق براہ راست مالی معاملات سے بھی نہیں ہے۔ خاص طور پر 317 جی او سے متاثرہ ملازمین کے ساتھ انصاف کیا جانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق حکومت کے دور میں بھی انہوں نے ان ملازمین کو انصاف دلانے کی کوشش کی تھی، لیکن وہ کوشش کامیاب نہیں ہوسکی۔ 317 جی او سے متاثرہ ملازمین میں خواتین کی تعداد زیادہ ہے اور انہیں مشکلات میں دیکھ کر انہیں شخصی طور پر تکلیف ہوتی ہے۔آخر میں کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ چیف منسٹر نے 18 ستمبر تک مسائل حل کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ اگر اس تاریخ تک ملازمین اور اساتذہ کے مسائل حل نہیں کئے جاتے تو ملازمین کی تنظیمیں حیدرآباد کے محاصرے کا اعلان کریں۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس ان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی رہے گی اور ان کے حقوق کے لئے جدوجہد کرے گی۔انہوں نے آؤٹ سورسنگ ملازمین کے مسائل بھی فوری طور پر حل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ تنخواہیں نہ ملنے کے باوجود یہ ملازمین عوام کو مشکلات سے بچانے کے لئے اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ حکومت کو فوری طور پر ان کے زیر التوا واجبات اور تنخواہیں ادا کرکے ان کے مسائل حل کرنے چاہئیں۔



