پاکستانی بحری جہاز نے ہندوستانی جنگی جہاز کو ٹکر دے دی

نئی دہلی: بین الاقوامی سمندری حدود میں ایک غیر متوقع واقعہ پیش آیا۔ بحیرۂ عرب میں پاکستانی بحری جہاز نے بھارتی بحری جہاز کو ٹکر مار دی۔ ہندوستانی حکومت نے اس واقعے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے پاکستانی سفارت کار کو وزارتِ خارجہ میں طلب کیا۔
پہلگام واقعہ اور آپریشن سندور کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سفارتی سطح پر کشیدگی برقرار ہے۔ ایسے وقت میں منگل کی شام پاکستانی بحری جہاز نے بھارتی بحری جہاز کو ٹکر مار دی۔ ہندوستان نے اسے لاپروائی پر مبنی رویہ قرار دیتے ہوئے مذمت کی۔
ہندوستان کی جانب سے کہا گیا کہ فوجی مشقوں، تربیتی سرگرمیوں اور فوجی دستوں کی نقل و حرکت کے بارے میں پیشگی اطلاع دینے سے متعلق دونوں ممالک کے درمیان 1991 میں معاہدہ ہوا تھا۔ ہندوستان کے مطابق پاکستانی جہاز نے اس معاہدے کی دفعہ 10 کی خلاف ورزی کی۔ غیر مناسب انداز میں فوجی مشقیں کیے جانے کے نتیجے میں یہ صورتحال پیدا ہوئی۔اس معاملے پر نئی دہلی میں پاکستانی اعلیٰ سطحی سفارتی نمائندے کو بھی طلب کیا گیا۔ مرکزی حکومت نے سفارتی ذرائع کے ذریعے پاکستان کے سامنے یہ معاملہ اٹھایا اور کہا کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی تکرار نہ ہو اور دونوں ممالک کے درمیان موجود معاہدوں کی شرائط کا احترام یقینی بنایا جائے۔ ہندوستانی حکومت نے اسلام آباد میں موجود اپنے سفارتی نمائندے کو بھی پاکستانی وزارتِ خارجہ کے سامنے یہ معاملہ اٹھانے کی ہدایت دی۔واقعے کے وقت بھارتی بحری جہاز بحیرۂ عرب میں گشت پر تھا۔ متعلقہ ذرائع کے مطابق ہندوستانی جہاز کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا۔ بتایا گیا کہ پاکستانی جہاز ’حُنَین کلاس‘ سے تعلق رکھتا ہے، جبکہ بھارتی جہاز جنگی بحری جہاز تھا۔ واقعے کے وقت سمندر میں شدید تلاطم تھا اور واقعے کے بعد دونوں جہاز ایک دوسرے سے دور چلے گئے۔واضح رہے کہ 2011 میں بھی پاکستانی بحریہ کے جہاز ’بابر‘ اور بھارتی بحریہ کے جنگی جہاز ’آئی این ایس گوداوری‘ کے درمیان اسی نوعیت کا واقعہ پیش آیا تھا۔

