مکہ مکرمہ کے قریب ڈرون داخل، سعودی دفاعی نظام نے مار گرایا
مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی اب سعودی عرب کے مقدس شہر مکہ مکرمہ تک پہنچ گئی ہے۔ مکہ مکرمہ کے قریب ایک ڈرون کے داخل ہونے کی کوشش کو سعودی فضائی دفاعی نظام نے ناکام بناتے ہوئے اسے مار گرایا۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب سعودی عرب اور حوثی باغیوں کے درمیان گزشتہ چند دنوں سے شدید جھڑپیں جاری ہیں۔
سعودی عرب نے ڈرون کارروائی کا الزام حوثی باغیوں پر عائد کیا ہے، تاہم حوثیوں نے اس الزام کو مسترد کردیا۔ سعودی فوج کے ترجمان ترکی المالکی کے مطابق، ڈرون مکہ مکرمہ کے قریب ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے قبل ہی شاہی سعودی فضائی دفاعی فورسز نے اسے روک کر تباہ کردیا۔
حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کے مغربی ساحلی علاقوں پر بیلسٹک میزائل حملوں کے بعد مکہ مکرمہ، جدہ اور طائف میں ہائی الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔ مکہ مکرمہ اور اس کے اطراف میں پہلی مرتبہ اس نوعیت کا الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ حوثیوں نے آخری مرتبہ 2017 میں مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔
مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے شدید مذمت کرتے ہوئے اسے مقدس شہر کے خلاف قابلِ مذمت کارروائی قرار دیا۔ او آئی سی نے سعودی عرب پر جاری حملوں کو جارحیت سے تعبیر کیا ہے۔
او آئی سی کے مطابق ایک ڈرون 15 ستمبر کی شام تقریباً 6.50 بجے مکہ کے جنوب میں انٹرسیپٹ کیا گیا۔ اسے مکہ کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی تباہ کر دیا گیا۔
دوسری جانب حوثیوں نے مکہ مکرمہ سمیت کسی بھی مقدس مقام کو خطرہ لاحق ہونے کی تردید کرتے ہوئے سعودی الزامات کو مسترد کردیا۔
ادھر حوثی باغیوں نے بحیرۂ احمر کے جنوب میں واقع مزید چند اہم جزائر پر قبضہ کرلیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق باب المندب آبنائے پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوششوں کے دوران یہ حوثیوں کی ایک اور اہم پیش رفت ہے۔
اس صورتحال کے دوران اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ حوثیوں کے خطرے کے پیش نظر مدینہ منورہ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پروازوں کی آمد و رفت بھی روک دی گئی ہے۔




