اسپشل اسٹوری

برتھ اور ڈیتھ سرٹیفکیٹ بنوانے والوں کے لئے بڑی خبر – یکم اکتوبر سے بدل جائے گا رجسٹریشن کا طریقہ

حیدراباد – پیدائش کے وقت برتھ سرٹیفکیٹ اور موت کے وقت ڈیتھ سرٹیفکیٹ انتہائی اہم دستاویزات ہیں۔ بچوں کے لیے برتھ سرٹیفکیٹ ان کی پہلی شناختی دستاویز بھی ہوتا ہے، جو اسکول میں داخلے اور سرکاری سہولتوں سے استفادہ کرنے کے لیے ضروری ہے۔ اسی طرح ڈیتھ سرٹیفکیٹ بھی اہم ہے، کیونکہ اس کی مدد سے افراد خاندان بینک اکاؤنٹس، جائیداد اور دیگر قانونی حقوق کے دعوے کرسکتے ہیں۔

 

رجسٹریشن آف برتھس اینڈ ڈیتھس (ترمیمی) ایکٹ رواں سال یکم اکتوبر سے نافذ العمل ہوگا۔ رجسٹرار جنرل آف انڈیا مریتیونجے کمار نارائن نے بتایا کہ نئے قانون کی وہ دفعات بھی یکم اکتوبر سے نافذ ہوجائیں گی جن کے تحت پیدائش اور اموات کے تاخیر سے اندراج کے قواعد مزید سخت کردیئے گئے ہیں۔

 

نئے قوانین کا بنیادی مقصد ان افراد پر توجہ دینا ہے جو پیدائش یا موت کا اندراج مقررہ مدت گزرنے کے بعد کراتے ہیں۔ یعنی اگر کوئی شخص معمول کی مدت گزرنے کے بعد برتھ یا ڈیتھ سرٹیفکیٹ کے لیے درخواست دیتا ہے تو اس پر نئے قواعد لاگو ہوں گے۔

 

نئے قواعد کے مطابق اگر کسی پیدائش یا موت کے واقعہ کے ایک سال سے زیادہ لیکن دو سال کے اندر اندراج کرایا جاتا ہے تو ضلع مجسٹریٹ، سب ڈویژنل مجسٹریٹ یا ضلع مجسٹریٹ کی جانب سے مجاز ایگزیکٹیو مجسٹریٹ کی منظوری لازمی ہوگی۔ اس کے ساتھ متعلقہ معاملے کی تصدیق بھی کی جائے گی اور مقررہ فیس ادا کرنا ہوگی۔

 

اگر پیدائش یا موت کے اندراج میں دو سال سے زیادہ تاخیر ہوجائے تو قواعد مزید سخت ہوجائیں گے۔ ایسی صورت میں اندراج صرف فرسٹ کلاس جوڈیشل مجسٹریٹ کے حکم پر ہی کیا جاسکے گا۔ یعنی دو سال سے زیادہ تاخیر کی صورت میں درخواست گزار کو عدالتی کارروائی سے گزرنا ہوگا۔

 

حکومت کے مطابق ان تبدیلیوں کا مقصد پیدائش اور اموات کے ریکارڈ کو زیادہ درست، شفاف اور بروقت بنانا ہے۔

 

رجسٹریشن آف برتھس اینڈ ڈیتھس (ترمیمی) بل 2026 کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے منظور کیا تھا اور صدر کی منظوری کے بعد گزشتہ ماہ یہ قانون بن گیا۔ اس قانون کا مقصد پیدائش اور اموات کے اندراج میں ہونے والی تاخیر کو روکنا اور عوام کو مقررہ وقت کے اندر رجسٹریشن کرانے کی ترغیب دینا ہے۔

 

قانون کے مطابق اگر کسی پیدائش یا موت کی اطلاع رجسٹرار کو ایک سال سے زیادہ لیکن دو سال کے اندر دی جاتی ہے تو اس کا اندراج ضلع مجسٹریٹ، سب ڈویژنل مجسٹریٹ یا مجاز ایگزیکٹیو مجسٹریٹ کی منظوری سے ہی کیا جاسکے گا۔

 

اسی طرح اگر پیدائش یا موت کی اطلاع دو سال سے زیادہ عرصے کے بعد دی جائے تو اندراج صرف فرسٹ کلاس جوڈیشل مجسٹریٹ کے حکم پر ہوگا۔ تاخیر سے رجسٹریشن کی اجازت دینے سے پہلے متعلقہ مجاز افسر کو پیدائش یا موت کی اطلاع کی صداقت کی تصدیق بھی کرنا ہوگی۔

 

پیدائش اور موت کا اندراج لازمی قرار دیا گیا ہے اور جاری کیا جانے والا سرٹیفکیٹ کسی فرد کی قانونی شناخت کے لئے اہم دستاویز تصور ہوتا ہے

Shadi
Shadi

متعلقہ خبریں

Back to top button