اسپشل اسٹوری

آٹھویں فیل نوجوان کی حیرت انگیز کامیابی،کمپیوٹر کا جنون بنا کامیابی کی کنجی۔سائبر سکیورٹی میں بنایا ایسا مقام کہ 100 ممالک تک پہنچ گئی کمپنی

نئی دہلی۔ آٹھویں جماعت میں فیل ہونے والا لڑکے نے 19 سال کی عمر میں کمپنی قائم کی اور آج وہ 100 ممالک میں 10 ہزار سے زائد اداروں کو سائبر حملوں سے بچا رہا ہے۔لُدھیانہ کے تریشنیت اروڑہ نے کم عمری میں کمپیوٹر اور سائبر سکیورٹی کو اپنا جنون بنا لیا تھا۔

 

وہ آٹھویں جماعت میں فیل ہوگئے اور ایک موقع پر آٹھویں جماعت کے امتحانات چھوڑ کر چندی گڑھ میں انفارمیشن سکیورٹی کی ورکشاپ میں شرکت کرنے چلے گئے۔روایتی تعلیم میں مشکلات کے باوجود انہوں نے کمپیوٹر اور ایتھیکل ہیکنگ سیکھنے پر توجہ مرکوز رکھی۔ 19 سال کی عمر میں انہوں نے اپنے والد سے 75 ہزار روپے بطور قرض لے کر 2013 میں TAC Security کی بنیاد رکھی۔

 

ابتدا میں وہ ایتھیکل ہیکنگ اور سائبر سکیورٹی کی تربیت دیتے تھے، لیکن بعد میں کمپنی نے بڑے اداروں اور سرکاری محکموں کے لیے سائبر سکیورٹی خدمات فراہم کرنا شروع کردیں۔آج TAC Security سائبر سکیورٹی اور رسک و ولنریبلٹی مینجمنٹ کے شعبے میں عالمی سطح پر کام کر رہی ہے۔

 

کمپنی کے مطابق اس کے 10 ہزار سے زائد کلائنٹس 100 ممالک میں موجود ہیں، جن میں بڑی عالمی کمپنیاں اور سرکاری ادارے بھی شامل ہیں۔ بھارت میں اس کے کلائنٹس میں ریلائنس انڈسٹریز اور سی بی آئی سمیت کئی بڑے اداروں کے نام سامنے آچکے ہیں۔

تریشنیت اروڑہ کی کہانی اس بات کی مثال ہے کہ تعلیمی ناکامی ہمیشہ زندگی کی ناکامی نہیں ہوتی۔ جس لڑکے کو کبھی آٹھویں جماعت میں فیل ہونے کا سامنا کرنا پڑا اسی نے اپنی دلچسپی اور مسلسل محنت کے ذریعے سائبر سکیورٹی کی دنیا میں

 

ایک نمایاں مقام بنایا اور 19 سال کی عمر میں شروع کی گئی کمپنی کو عالمی سطح تک پہنچایا۔

Shadi
Shadi

متعلقہ خبریں

Back to top button